تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 75
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۵ سورة الفاتحة رحم دو قسم کا ہوتا ہے ایک رحمانیت دوسرا رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔رحمانیت تو ایسا فیضان ہے کہ جو ہمارے وجود اور ہستی سے بھی پہلے ہی شروع ہوا۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے پہلے پہل اپنے علم قدیم سے دیکھ کر اس قسم کا زمین آسمان اور ارضی اور سماوی اشیاء ایسی پیدا کی ہیں جو سب ہمارے کام آنے والی ہیں اور کام آتی ہیں۔اور ان سب اشیاء سے انسان ہی عام طور پر فائدہ اُٹھاتا ہے۔بھیڑ، بکری اور دیگر حیوانات جبکہ بجائے خود انسان کے لئے مفید شے ہیں تو وہ کیا فائدہ اُٹھاتے ہیں؟ دیکھو جسمانی امور میں انسان کیسی کیسی لطیف اور اعلیٰ درجہ کی غذائیں کھاتا ہے۔اعلیٰ درجہ کا گوشت انسان کے لئے ہے۔ٹکڑے اور ہڈیاں کتوں کے واسطے۔جسمانی طور پر جو حظوظ اور لذات انسان کو حاصل ہیں گو حیوان بھی اس میں شریک ہیں مگر انسان کو وہ : بدرجہ اعلیٰ حاصل ہیں اور روحانی لذات میں جانور شریک بھی نہیں ہیں۔پس یہ دو قسم کی رحمتیں ہیں۔ایک وہ جو ہمارے وجود سے پہلے پیش از وقت کے طور پر تقدمہ کی صورت میں عناصر وغیرہ اشیاء پیدا کیں جو ہمارے کام میں لگی ہوئی ہیں۔اور یہ ہمارے وجود، خواہش اور دُعا سے پہلے ہیں جو رحمانیت کے تقاضے سے پیدا ہوئے۔اور دوسری رحمت رحیمیت کی ہے۔یعنی جب ہم دُعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔غور کیا جاوے تو معلوم ہوگا کہ قانونِ قدرت کا تعلق ہمیشہ سے دُعا کا تعلق ہے۔بعض لوگ آج کل اس کو بدعت سمجھتے ہیں ہماری دُعا کا جو تعلق خدائے تعالیٰ سے ہے میں چاہتا ہوں کہ اُسے بھی بیان کروں۔ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کے لئے چلاتا ہے اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آجاتا ہے بچہ دُعا کا نام بھی نہیں جانتا۔لیکن اُس کی چیچنیں دودھ کو کیونکر کھینچ لاتی ہیں ؟ اس کا ہر ایک کو تجربہ ہے۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں۔مگر بچہ کی چلا ہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچ لاتی ہے۔تو کیا ہماری چینیں جب اللہ تعالیٰ کی حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر لا سکتیں ؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے۔مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔بچہ کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دُعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔دوسری قسم کا رحم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک رحم مانگنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔مانگتے جاؤ گے ملتا جاوے گا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن (۶) کوئی لفاظی نہیں بلکہ یہ انسانی سرشت کا ایک لازمہ ہے۔مانگنا انسان کا خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔جو نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا وہ جھوٹا ہے۔بچہ