تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 76
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۶ سورة الفاتحة کی مثال جو میں نے بیان کی ہے وہ دُعا کی فلاسفی خوب حل کر کے دکھاتی ہے۔رحمانیت اور رحیمیت دو نہیں ہیں۔پس جو ایک کو چھوڑ کر دوسری کو چاہتا ہے اُسے مل نہیں سکتا۔رحمانیت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہم میں رحیمیت سے فیض اٹھانے کی سکت پیدا کرے جو ایسا نہیں کرتا وہ کا فرنعمت ہے ايَّاكَ نَعْبُدُ کے یہی معنے ہیں کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔ان ظاہری سامانوں اور اسباب کی رعایت سے جو تو نے عطا کئے ہیں۔دیکھو! یہ زبان جو عروق اور اعصاب سے خلق کی ہے۔اگر ایسی نہ ہوتی تو ہم بول نہ سکتے۔ایسی زبان دُعا کے واسطے عطا کی جو قلب کے خیالات تک کو ظاہر کر سکے۔اگر ہم دُعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں تو یہ ہماری تو شور بختی ہے۔بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ زبان کو لگ جاویں تو ایک دفعہ ہی زبان اپنا کام چھوڑ بیٹھتی ہے۔یہاں تک کہ انسان گونگا ہو جاتا ہے۔پس یہ کیسی رحیمیت ہے کہ ہم کو زبان دے رکھی ہے۔ایسا ہی کانوں کی بناوٹ میں فرق آجاوے تو خاک بھی سنائی نہ دے۔ایسا ہی قلب کا حال ہے۔وہ جو خشوع و خضوع کی حالت رکھی ہے اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں رکھی ہے۔اگر بیماری آجاوے تو وہ سب قریباً بیکار ہو جاتی ہیں۔مجنونوں کو دیکھو کہ اُن کے قومی کیسے بیکار ہو جاتے ہیں۔تو پس کیا یہ ہم کو لازم نہیں کہ ان خداداد نعمتوں کی قدر کریں؟ اگر ان قومی کو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال فضل سے ہم کو عطا کئے ہیں بیکار چھوڑ دیں تو لاریب ہم کا فرنعمت ہیں۔پس یا درکھو کہ اگر اپنی قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کر دُعا کرتے ہیں تو یہ دُعا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی کیونکہ جب ہم نے پہلے عطیہ ہی سے کچھ کام نہیں لیا تو دوسرے کو کب اپنے لئے مفید اور کارآمد بنا سکیں گے؟ رحمت الہی نے دو قسم سے اپنی ابتدائی تقسیم کے لحاظ سے بنی آدم پر ظہور و بروز فرمایا ہے۔اول وہ رحمت جو بغیر وجود عمل کسی عامل کے بندوں کے ساتھ شامل ہوئی جیسا کہ زمین اور آسمان اور شمس اور قمر اور ستارے اور پانی اور ہوا اور آگ اور وہ تمام نعمتیں جن پر انسان کی بقا اور حیات موقوف ہے کیونکہ بلاشبہ یہ تمام چیزیں انسان کے لئے رحمت ہیں جو بغیر کسی استحقاق کے محض فضل اور احسان کے طور سے اس کو عطا ہوئے ہیں۔اور یہ ایسا فیض خاص ہے جو انسان کے سوال کو بھی اس میں دخل نہیں بلکہ اس کے وجود سے بھی پہلے ہے اور یہ چیزیں ایسی بزرگ رحمت ہے جو انسان کی زندگی انہیں پر موقوف ہے۔اور پھر باوصف اس کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں انسان کے کسی نیک عمل سے پیدا نہیں ہو ئیں بلکہ انسانی گناہ کا علم بھی جو خدا تعالیٰ کو پہلے سے تھا ان رحمتوں کے ظہور سے مانع نہیں ہوا اور کوئی اواگون کا قائل یا تناسخ کا ماننے والا گو کیسا ہی اپنے رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۱۵۰،۱۴۹)