تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 74
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام رحیم ۷۴ سورة الفاتحة یعنی عملوں کی پاداش میں بدلا دینے والا۔بعض لوگ ایسے ہیں ( خود انہی مسلمانوں میں بھی ) جو اعمال کو باطل قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں نماز کیا روزہ کیا قسمت ہوئی تو بچ جائیں گے۔یعنی جو کچھ ہونا ہے ہو جائے گا۔ہم کیوں خواہ مخواہ تکلیف اُٹھا ئیں۔یہ فرقہ بڑا بڑھا ہوا ہے۔جاہل سے جاہل کا اعتقاد یہی ہے۔قسمت پر چھوڑا ہوا ہے۔کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی ولی بننا ہے جو یہ ریاضتیں کریں۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا نام رحیم ہے جو صالح الاعمال ، عشق و محبت میں محو ہو جاتا ہے اس کے مدارج بلند کروں گا۔جتنے اولیاء اور بڑے بڑے راست باز ہوئے ہیں ان سب نے پہلے ضرور مجاہدات کئے ہیں۔جب جاکر ان پر یہ دروازہ کھلا۔قرآن مجید میں ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنكبوت : ۷۰ )۔جو بندہ یا بندہ۔جس نے مجاہدات کئے اُسی نے پایا۔پس یہ رحیم ان لوگوں کے رڈ میں ہے جو کہتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہو جائے گا۔ہمیں عبادات کی کیا ضرورت ہے۔غالباً چوروں ڈاکوؤں کا بھی یہی مذہب ہوتا ہے اور یہی خیالات وہ اندر ہی اندر رکھتے ہیں۔( بدر نمبر ا جلد۷ مؤرخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۵) خدا نے اسی سورہ فاتحہ میں فرمایا کہ وہ رحیم ہے۔یعنی کوششوں پر نیک نتیجہ مرتب کرتا ہے۔مثلاً ایک کسان کاشتکاری کرتا ہے، آبپاشی کرتا ہے اب عادت اللہ جاری ہے وہ کسی کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ایک دانے کے عوض کئی دانے دیتا ہے۔کسی پوشیدہ حکمت یا کاشت کار کی بد عملی کی وجہ سے فصل برباد ہو جائے تو یہ علیحدہ بات ہے۔یہ شاذ ونا در کالمعدوم کا حکم رکھتی ہے۔(بدرنمبر ۲۵ جلد ۷ مؤرخہ ۲۵/ جون ۱۹۰۸ صفحه ۳) رحمانیت کا مظہر تام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ محمد کے معنے ہیں بہت تعریف کیا گیا اور رحمان کے معنے ہیں بلا مزد، بن مانگے بلا تفریق مومن و کافر ( کو ) دینے والا۔اور یہ صاف بات ہے کہ جو بن مانگے دے گا اس کی تعریف ضرور کی جاوے گی۔پس محمد میں رحمانیت کی تجلی تھی اور اسم احمد میں رحیمیت کا ظہور تھا۔کیونکہ رحیم کے معنے ہیں محنتوں اور کوششوں کو ضائع نہ کرنے والا اور احمد کے معنے ہیں تعریف کرنے والا۔اور یہ بھی عام بات ہے کہ وہ شخص جو کسی کا عمدہ کام کرتا ہے وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور اس کی محنت پر ایک بدلا دیتا ہے اور اُس کی تعریف کرتا ہے۔اس لحاظ سے احمد میں رحیمیت کا ظہور ہے۔پس اللہ محمد ( رحمان ) احمد ( رحیم) ہے۔گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ان دو عظیم الشان صفات رحمانیت اور رحیمیت کے الحکم نمبر ۶ جلد ۵ مؤرخہ ۱۷ فروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۷)