تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 67
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۷ سورة الفاتحة الْمُحَمَّدِيَّةِ وَالْأَحْمَدِيَّةِ۔ثُمَّ لَمَّا كَانَ احمدیت کے آئینہ میں دکھائے۔پھر جبکہ آنحضرت صلی كُمَّلُ أُمَّتِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ أَجْزَائِهِ الله علیہ وسلم کی امت کے کامل افراد جو آنحضرت کی الرُّوحَانِيَّةِ وَ كَالْجَوَارِحِ لِلْحَقِيقَةِ روحانیت کے اجزاء اور حقیقت نبویہ کے اعضاء کی طرح النّبَوِيَّةِ۔أَرَادَ اللهُ لِإِبْقَاءِ أَثَارِ هَذَا النَّبِي ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ اس نبی معصوم صلی اللہ الْمَعْصُومِ أَن يُوَزِقَهُمْ هَذَيْنِ الْإِسْمَينِ علیہ وسلم کے آثار کو باقی رکھنے کے لئے انہیں (امت کے كَمَا جَعَلَهُمْ وَرَثَاءَ الْعُلُومِ فَأَدْخَلَ کامل افراد کو بھی اسی طرح ان دونوں ناموں کا وارث الصَّحَابَةَ تَحْتَ ظِلِ اسمِ مُحَمَّدٍ الَّذِي هُوَ بنائے جیسے اس نے انہیں علوم نبویہ کا وارث بنایا ہے۔پس مَظْهَرُ الْجَلَالِ۔وَأَدْخَلَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ اُس نے صحابہ کو اسم محمد کے ظلت کی ذیل میں داخل کر دیا جو تَحْتَ اسْمِ أَحْمَدَ الَّذِي هُوَ مَظْهَرُ الْجَمَالِ۔اسم کے جلال کا مظہر ہے اور مسیح موعود کو اسم احمد کے ذیل وَمَا وَجَدَ هولاء هذهِ الدَّوْلَةِ إِلَّا میں داخل کر دیا جو جمال کا مظہر ہے۔اور ان سب نے اس بِالظَّليَّةِ فَإِذَن ما ثَمَّ شَرِيكَ عَلَى دولت کو محض ظلیت کے طور پر پایا ہے۔پس حقیقت کی رُو الْحَقِيقَةِ۔وَكَانَ غَرَضُ الله مِن تَقسیم سے اس مقام پر خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور ان دو هذَيْنِ الْإِسْمَيْنِ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ الْأُمَّةِ ناموں کی تقسیم سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہی تھی کہ وہ اُمت کو وَيَجْعَلَهُمْ فَرِيقَيْنِ فَجَعَلَ فَرِيقًا مِنْهُمْ تقسیم کرے اور اس کے دو گروہ کر دے۔پس اس نے ان كَمِثْلِ مُوسى مَظْهَرِ الْجَلَالِ وَهُمْ صَحَابَةُ میں سے ایک گروہ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام مظہر جلال کی مانند النَّبِيِّ الَّذِينَ تَصَلَّوا أَنْفُسَهُمْ لِلْقِتَالِ وَ بنایا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جنہوں جَعَلَ فَرِيقًا مِنْهُمْ كَمِثْلِ عِیسَی مَظهَرِ نے جہاد کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا اور ایک گروہ کو الْجَمَالِ وَ جَعَلَ قُلُوبَهُمْ لَيْنَةً وَأَوْدَعَ حضرت عیسی علیہ السلام مظہر جمال کی مانند بنایا اور ان کو دل السّلم صُدُورَهُمْ وَأَقَامَهُمْ عَلى أَحْسَن کا حلیم بنایا۔ان کے سینوں میں مسلح جوئی ودیعت کی اور ان کو الْخِصَالِ وَ هُوَ الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ وَ اعلیٰ اخلاق پر قائم کیا اور امت کا یہ گروہ مسیح موعود اور اس کے الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ مِنَ النِّسَاءِ وَ الرِّجَالِ متعین ہیں خواہ مرد ہوں یا عورتیں۔پس جو کچھ حضرت موسیٰ فَتَمَّ مَا قَالَ مُوسَى وَمَا فَاةَ بِكَلَام نے فرمایا تھا وہ بھی اور جو حضرت عیسی (علیہما السلام) نے عِيسَى وَتَمَّ وَعْدُ الرَّبِّ الْفَعَالِ فرمایا تھا وہ بھی پورا ہوا اور اس طرح خدائے قادر کا وعدہ