تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 66

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۶ سورة الفاتحة وو مُسْتَغْنِيَةً مِّنْ نَصْرِ النَّاصِرِينَ کی مدد سے مستغنی رکھا اور اُسے مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ “ وَمَظْهَرًا لِحَقِيقَةِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ كَمَا کی حقیقت کے اظہار کا ذریعہ بنا دیا۔جیسا کہ آئندہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی تفسیر آ رہی ہے۔يَأْتِي تَفْسِيرُهُ بَعْدَ حِينٍ۔وَمِن تَتِمَّةِ هَذَا الْكَلَامِ أَن نَبِيَّنا اس کلام کا تتمہ یہ ہے کہ چونکہ ہمارے نبی خیر البشر خَيْرَ الْأَنَامِ لَمَّا كَانَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ وَ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء برگزیدوں کے برگزیدہ اور أَصْقَى الْأَصْفِيَاءِ وَ أَحَبَّ النَّاسِ إلى الله تعالی کی جناب میں سب لوگوں سے زیادہ محبوب حَضْرَةِ الكِبْرِيَاءِ أَرَادَ اللهُ سُبْحَانَهُ أَن تجمع ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ فلی طور پر آپ فِيْهِ صِفَتَيْهِ الْعَظِيمَتَيْنِ عَلَى الطَّرِيقَةِ میں اپنی یہ دونوں بڑی صفات جمع کر دے۔پس آپ کو القِليَّةِ۔فَوَهَبَ لَهُ استمَ مُحَمَّد و احمد محمد اور احمد کے نام عطا کئے تا یہ دونوں نام صفت رحمانیت لِيَكُونَا كَالظَّلَّيْنِ لِلرَّحْمَانِيَّةِ وَ الرَّحِيمِيَّةِ اور صفت رحیمیت کے لئے بمنزلہ ظل کے ہوں۔اسی لئے وَلِذَالِكَ أَشَارَ في قَوْلِهِ۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اس نے اپنے قول اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں ايَّاكَ نَسْتَعِينُ إلى أَنَّ الْعَابِدَ الْعَامِل اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ کامل عبادت گزار کو يُعطى لَهُ صِفَاتُ رَبِّ الْعَالَمِينَ بَعْدَ أَن رب العالمین کی صفات عطا کی جاتی ہیں جبکہ وہ فنافی اللہ تَكُونَ مِنَ الْعَابِدِينَ الْقَانِينَ وَ قَدْ عابدوں کے مقام تک پہنچ جائے۔اور آپ کو معلوم ہے عَلِمْتَ أَنَّ كُلَّ كَمَالٍ مِّن كَمَالَاتِ کہ اخلاق الہیہ کا ہر کمال اللہ تعالیٰ کے رحمان و رحیم الْأَخْلَاقِ الإلهية مُنْحَصِرُ فی گویم ہونے پر منحصر ہے۔اس لئے اللہ تعالی نے ان دونوں رحمان و رحيما وَلِذَالِكَ خَضَهُما الله صفات کو بسم اللہ کے ساتھ مخصوص کر دیا۔اور آپ کو یہ بھی بِالْبَسْمَلَةِ۔وَعَلِمْتَ أَنَّ اسْمَ مُحَمَّدٍ وَ أَحمد معلوم ہو چکا ہے کہ محمد اور احمد نام " الرحمان الرحیم " کے قَدْ أُقِيمَا مَقَامَ الرَّحْمنِ وَالرَّحِيمِ وَ مظہر ہیں اور ہر کمال جو ان دونوں صفات الہیہ میں مخفی أُوْدِعَهُمَا كُلُّ كَمَالٍ كَانَ فَخَفِيًّا فِي هَاتَيْنِ تھا وہ علیم و حکیم خدا کی طرف سے ( محمد اور احمد کے ) دونوں الصَّفَتَيْنِ مِنَ اللهِ الْعَلِيْمِ الْحَکیم۔فَلا ناموں میں ودیعت کر دیا گیا ہے پس بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے شَكَ أَنَّ اللهَ جَعَلَ هَذَيْنِ الإِسْمَيْنِ ظِلَّيْن ان دونوں ناموں (محمد اور احمد ) کو اپنی دونوں صفات لِصِفَتَيْهِ وَمَظْهَرَينِ لِسِيرَتَيْهِ لِيُرِى کے ظلل اور اپنی دونوں سیرتوں کے مظہر ٹھہرایا حَقِيْقَةَ الرَّحْمَانِيَّةِ وَ الرَّحِيمِيَّةِ في مراة ہے تاکہ رحمانیت اور رحیمیت کی حقیقت کو محمدیت اور