تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 60
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة إِلَى الصّلاحِ وَالْهِدَايَةِ۔وَقَدْ عَرَفتَ أَنَّ دے کر صلاح و ہدایت کی طرف لے آئیں۔آپ جان الْحَقِيقَةُ الْمُحَمَّدِيَّةَ هُوَ مَظْهَرُ الْحَقِيقَةِ چکے ہیں کہ حقیقت محمدیہ حقیقت رحمانیہ کی مظہر ہے۔اور الرَّحْمَانِيةِ۔وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ الْجَلال جلال اور اس صفت احسان کے درمیان کوئی مغایرت نہیں وهذه الصفَةِ الْإِحْسَانِيَّةِ بَل بلکه صفت رحمانیت جلال اور ربانی دبدبہ کی مظہر کامل الرَّحْمَانِيَّةُ مَظْهَرٌ تَامّ لِلْجَلَالِ وَ الشَّطْوَةِ ہے۔صفت رحمانیت کی حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں الرَّيَّانِيَّةِ۔وَ هَلْ حَقِيْقَةُ الرَّحْمَانِيَّةِ إِلَّا کہ ادنی کو اعلیٰ کے لئے قربان کیا جائے۔انسان اور اس قَتْلُ الَّذِي هُوَ أَدْنى لِلَّذِي هُوَ أَعْلى وَ کے علاوہ دوسری مخلوق کی پیدائش کے وقت سے خدائے كَذَالِكَ جَرَتْ عَادَةُ الرَّحْمنِ مُنْ خَلَقَ رحمن کی یہی سنت جاری ہے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ الْإِنْسَانَ وَ مَا وَرَآتَهُ مِنَ الْوَرى أَلَا اونٹوں کی جانوں کی حفاظت کے لئے ان کے زخموں کے تَرى كَيْفَ تُقْتَلُ دُودُ جُرْحِ الْإِبِلِ يحفظ کیڑے کس طرح ہلاک کئے جاتے ہیں اور اونٹوں کو اس نُفُوسِ الْجَمَالِ وَتُقْتَلُ الْجِمَالُ لِيَنْتَفِعَ لئے ذبح کیا جاتا ہے تا لوگ ان کے گوشت اور چمڑوں النَّاسُ مِن لُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَيَتَّخِذُوا سے فائدہ اُٹھا ئیں اور زیب وزینت کے لئے ان کے مِنْ أَوْبَارِهَا ثِيَابَ الزِّينَةِ وَالْجَمَال بالوں سے لباس بنا ئیں۔یہ سب کچھ نوع انسان اور وَهذِهِ كُلُّهَا مِنَ الرَّحْمَانِيَّةِ لحفظ سلسلة جنس حیوان کی حفاظت کے لئے صفت رحمانیت کے الْإِنْسَانِيَّةِ وَالْحَيَوَانِيَّةِ فَكَمَا أَن ذریعہ ہی کیا جارہا ہے۔پس جس طرح رحمن محبوب ہے الرَّحْمَانَ مَحْبُوبٌ كَذَالِكَ هُوَ مَظْهَرُ ویسے ہی وہ مظہر جلال بھی ہے اور اس وصف میں اسم محمد الْجَلَالِ۔وَ كَمِثْلِهِ اسْمُ مُحَمَّدٍ في هذا بھی اسی صفت رحمانیت کی مانند ہے پھر جب صحابہ کرام الْكَمَالِ۔ثُمَّ لَمَّا وَرِثَ الْأَصْحَابُ انتم خدائے بخشندہ کی طرف سے اسم محمد کے وارث ہوئے اور اسم مُحَمَّدٍ مِنَ اللهِ الْوَهَّابِ وَأَظْهَرُوا جَلَالَ انہوں نے جلال الہی کو ظاہر کیا اور ظالموں کو چوپایوں اور الله وَقَتَلُوا الظَّالِمِینَ الأَنْعَامِ وَ مویشیوں کی طرح قتل کیا اسی طرح مسیح موعود اسم احمد کا الدَّوَآتِ كَذَالِكَ وَرِكَ الْمَسِيحُ وارث ہوا جو مظہر رحیمیت و جمال ہے اور اللہ تعالی نے یہ الْمَوْعُودُ اسْمَ أَحْمَدَ الَّذِي هُوَ مَظْهَرُ نام اس کے لئے اور اس کے متبعین کے لئے جو اس کی آل الرَّحِيمِيَّةِ وَالْجَمَالِ وَاخْتَارَ لَهُ اللهُ هذا کی طرح بن گئے اختیار کیا۔پس مسیح موعود ا پنی جماعت