تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 59
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹ سورة الفاتحة ا اسم عيسى و اسم أحمد مُتَّحِدَانِ فِي الْهُويَّةِ سے نہیں دیکھتے کیونکہ اسم عیسی اور اسم احمد اپنی ماہیت وَ مُتَوَافِقَانِ في الطَّبِيعَةِ۔وَ يَدُلَّانِ عَلَی میں ایک ہی ہیں اور طبیعت کے لحاظ سے ایک دوسرے الْجَمَالِ وَتَرْك الْقِتَالَ مِنْ حَيْثُ الكَيْفِيَّةِ سے مطابقت رکھتے ہیں اور اپنی کیفیت کے لحاظ سے یہ وَأَمَّا اسْمُ مُحَمَّدٍ فَهُوَ اسْمُ الْقَهْرِ وَالْجَلالِ نام جمال اور ترک ققال پر دلالت کرتے ہیں لیکن اسم محمد وَكِلَاهُمَا لِلرَّحْمَانِ وَالرَّحِيمِ كَالا ظلالِ قہر اور جلال کا نام ہے اور یہ ہر دو نام محمد اور احمد رحمن ورحیم أَلَا تَرَى أَنَّ اسْمَ الرَّحْمنِ الَّذِي هُوَ مَنْبَعٌ کے لئے بطور ظلّ کے ہیں۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ رحمن لِلْحَقِيقَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ يَقْتَضِي الْجَلَالَ كَمَا نام جو حقیقت محمدیہ کا منبع ہے۔جلال کا ویسے ہی تقاضا کرتا يَفْتَين شَأْنَ الْمَحْبُوبِيَّةِ وَ مِن رَحْمَانِيَّتِهِ ہے جیسے کہ وہ شانِ محبوبیت کو چاہتا ہے اور یہ امر اللہ تعالیٰ تَعَالَى أَنَّهُ سَخَّرَ كُلَّ حَيَوَانٍ لِلْإِنْسَانِ مِن کی رحمانیت ہے کہ اس نے انسان کے لئے گائیوں ، الْبَقَرِ وَ الْمَعْرِ وَالْجِمَالِ وَالْبِغَالِ بکریوں ، اونٹوں ، خچروں ، بھیڑوں اور دوسرے تمام وَالطَّانِ۔وَإِنَّهُ أَهْرَقَ دِمَاء كَثِيرَةٌ لحفظ جانوروں کو مسخر کر دیا۔اور انسانی جان کی حفاظت کے نَفْسِ الْإِنْسَانِ وَمَا هُوَ إِلَّا أَمْرٌ جَلالی لئے بہت سے خون گرانے روا ر کھے۔یہ امر صرف ایک وَنَتِيجَةُ رَحْمَانِيَّةِ الرَّحْمَانِ جلالی معاملہ اور خدائے رحمن کی رحمانیت کا ہی نتیجہ ہے۔فَتَبَتَ أَنَّ الرَّحْمَانِيَّةَ يَقْتَدِى الْقَهْرَ پس ثابت ہوا کہ رحمانیت قہر اور جلال کا تقاضا کرتی وَالْجَلَالَ مَعَ ذَالِكَ هُوَ مِنَ الْمَحْبُوبِ لطف ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ محبوب کی طرف سے اُس شخص لِمَنْ أَرَادَ لَهُ النَّوَالَ۔وَكَمْ مِّن دُودِ الْمِيَاهِ کے لئے جس پر وہ نوازش کرنا چاہے مہربانی بن جاتی ہے۔وَ الْأَهْوِيَةِ تُقْتَلُ لِلْإِنْسَانِ۔وَكَمْ مِّنَ (دیکھو) پانی اور ہوا کے بہت سے کیڑے انسان کی الْأَنْعَامِ تُذْبَحُ لِلنَّاسِ إِنْعَامًا مِنَ الرَّحْمَانِ خاطر مار دیئے جاتے ہیں بہت سے چوپائے انسان کے فَخَلاصَةُ الْكَلَامِ أَنَّ الصَّحَابَةُ كَانُوا لئے خدائے رحمن کی طرف سے بطور انعام ذبح کئے مَظَاهِرَ لِلْحَقِيقَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ الْجَلَالِيَّةِ۔جاتے ہیں۔اس خلاصہ کلام یہ ہے کہ صحابہ کرام حقیقت وَلِذَالِكَ قَتَلُوا قَوْمًا كَانُوا السباع محمد یہ جلالیہ کے مظاہر تھے اسی لئے انہیں ان لوگوں کو قتل كَالسّبَاعِ وَ نَعَمِ الْبَادِيَةِ لِيُعَلِّصُوا قَوْمًا الخَرِيْنَ کرنا پڑا جو درندوں اور جنگلی چوپایوں کی طرح تھے تا کہ من سجن الضَّلَالَةِ وَالْعَوَايَةِ وَيَجْرُوهُمْ دوسرے لوگوں کو گمراہی اور کجروی کے قید خانہ سے نجات |