تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 55

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة حَقِّ بِأَنْوَاعِ النِّعْمَةِ يَحْمَدُهُ كُلُّ مَنْ أَنْعِمَ انعام و اکرام کیا جاتا ہے اور یہ بات انسانی فطرت کا خاصہ عَلَيْهِ وَهُذَا مِنْ خَوَاصِ النَّشْأَةِ ہے پھر جب اتمام نعمت کے باعث حمد اپنے کمال کو پہنچ الْإِنْسَانِيَّةِ ثُمَّ إِذَا كَبُلَ الْحَمْدُ بِكَمَالِ جائے تو وہ کامل محبت کی جاذب بن جاتی ہے اور ایسا حسن الْإِنْعَامِ جَذَبَ ذَالِكَ إِلَى الْحُبِ التَّامِ اپنے محبوں کی نظر میں بہت قابل تعریف اور محبوب بن جاتا فَيَكُونُ الْمُحْسِنُ مُحَمَّدًا وَمَحْبُوبًا فِي أَعْيُنِ ہے اور یہ صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے۔ پس آپ عقلمندوں کی الْمُحِيِّينَ فَهَذَا مَالُ صِفَةِ الرَّحْمَانِ طرح ان باتوں پر غور کیجئے ۔ اب اس بیان سے ہر صاحب فَفَكَّرْ كَالْعَاقِلِينَ وَقَدْ ظَهَرَ مِنْ هذا عرفان پر واضح ہو گیا ہے کہ الرحمن بہت حمد کیا گیا ہے الْمَقَامِ لِكُلِّ مَنْ لَهُ عِرْفَانٌ أَنَّ الرَّحمن اور ( کامل ) حمد کیا گیا اگر محمن ہے بلاشبہ ان دونوں کا نتیجہ مُحَمَّدٌ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّحْمَانٌ وَلَا شَكٍّ أَنَّ ایک ہی ہے اور اس سچائی سے ناواقف ہی اس کا انکار کرنے مَالُهُمَا وَاحِدٌ وَقَدْ جَهَلَ الْحَقِّ مَنْ هُوَ والا ہے ۔ لیکن صفت رحیمیت کی حقیقت اور اس کی مخفی جَاحِدٌ، وَأَمَّا حَقِيقَةُ صِفَةِ الرَّحِيمِيَّةِ روحانی کیفیت یہ ہے کہ اہل مسجد کے اعمال پر انعام و برکت وَمَا أُخْفِيَ فِيهَا مِنَ الْكَيْفِيَّةِ الرُّوْحَانِيَّةِ کا افاضہ ہو نہ کہ گر جا والوں پر ۔ اور مخلص کام کرنے والوں فَهِيَ إِفَاضَةُ إِنْعَامٍ وَ خَيْرٍ عَلَى عَمَلٍ مِنْ کے اعمال کی تکمیل کی جائے اور تلافی کرنے والوں اور أَهْلِ مَسْجِدٍ لَّا مِنْ أَهْلِ دَيْرٍ وَ تَكْمِيلُ معاونوں اور مددگاروں کی طرح ان کی کوتاہیوں کا تدارک عَمَلِ الْعَامِلِينَ الْمُخْلِصِينَ وَ جَبْرُ کیا جائے ۔ بلا شبہ یہ افاضہ ( بندوں پر ) خدائے رحیم کی نُقْصَانِهِمْ كَالْمُتَلَافِينَ وَ الْمُعِيْنِيْنَ وَ طرف سے ان کی تعریف کے حکم میں ہے کیونکہ وہ اس النَّاصِرِينَ وَلَا شَكٍّ أَنَّ هَذِهِ الْإِفَاضَةَ فِي طرح کی رحمت کسی عمل کرنے والے پر اُسی وقت نازل حُكْمِ الْحَمْدِ مِنَ اللهِ الرَّحِيمِ فَإِنَّهُ لا کرتا ہے جب کہ بندہ صحیح طریق پر اس کی تعریف کرتا ہے يُنْزِلُ هَذِهِ الرَّحْمَةَ عَلَى عَامِلٍ إِلَّا بَعْدَ مَا اور خدا تعالیٰ اس کے عمل پر راضی ہوتا ہے اور اسے حَمِدَهُ عَلَى مَهْجِهِ الْقَوِيمِ وَرَضِيَ بِهِ عَمَلاً اپنے وسیع فضل کا مستحق پاتا ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ وَ رَاهُ مُسْتَحِقًا لِلْفَضْلِ الْعَمِيمِ أَلَا تَرَى خدا تعالیٰ کا فروں ، مشرکوں ، ریا کاروں اور متکبروں کے أَنَّهُ لَا يَقْبَلُ عَمَلَ الْكَافِرِينَ وَالْمُشْرِكِينَ اعمال قبول نہیں کرتا بلکہ ان کے عملوں کو ضائع کر دیتا ہے اور وَالْمُرَائِينَ وَالْمُتَكَبِرِينَ بَلْ يُحْبِطُ نہ تو اپنی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور نہ مددفرماتا ہے