تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 26
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶ سورة الفاتحة بِالْغَيْبِ وَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ فَقُمْ | شک ہو تو اُٹھو اور خود اس کا تجربہ کرلو اور ماندگی وسستی کو وَجَرَّبُ وَاتْرُكِ اللُّغُوبَ وَالْأَيْنَ وَلَا چھوڑ دو اور یہ سوال نہ کرو کہ یہ کیسے اور کہاں ہوسکتا ہے۔ تَسْأَلُ عَنْ كَيْفَ وَأَيْنَ وَمِنْ عَجَائِبِ اس سورت کے عجائبات میں سے یہ بات بھی ہے کہ اس نے هَذِهِ السُّورَةِ أَنَّهَا عَرَّفَ اللهُ بِتَعْرِيفِ اللہ تعالیٰ کی تعریف ایسے الفاظ میں بیان کی ہے کہ اس سے لَّيْسَ فِي وُسْع بَشَرٍ أَن يَزِيدَ عَلَيْهِ- زیادہ بیان کرنا انسان کی طاقت میں نہیں ۔ ہم دُعا کرتے فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان اس قَوْمِنَا بِالْفَاتِحَةِ وَإِنَّا تَوَكَّلْنَا عَلَيْهِ سورۃ فاتحہ کے ذریعہ فیصلہ کر دے۔ ہمارا اسی پر توکل ہے۔ امِين يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ۔ يَا اعجاز مسیح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۷۹ تا ۸۱ ) آمین یا رب العالمین ۔ ( ترجمه از مرتب ) - سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دُعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے۔ چنانچہ اس دُعا کو اللہ تعالیٰ نے یوں سکھایا ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِلَى آخِرِ ہ یعنی دُعا سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جاوے۔جس سے اللہ تعالیٰ کے لئے روح میں ایک جوش اور محبت پیدا ہو ۔ اس لئے فرمایا اَلْحَمْدُ لِلهِ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ۔ رَبِّ الْعَالَمِينَ سب کو پیدا کرنے والا اور پالنے والا ۔ الر حمن جو بلا عمل اور بن مانگے دینے والا ہے۔ الرَّحِیمِ پھر عمل پر بھی بدلہ دیتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیتا ہے۔ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہر بدلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ نیکی بدی سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پورا اور کامل مؤحد تب ہی ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ تسلیم کرتا ہے۔ دیکھو حکام کے سامنے جا کر ان کو سب کچھ تسلیم کر لینا یہ گناہ ہے اور اس سے شرک لازم آتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حاکم بنایا ہے۔ ان کی اطاعت ضروری ہے مگر ان کو خدا ہر گز نہ بناؤ۔ انسان کا حق انسان کو اور خدا تعالیٰ کا حق خدا تعالیٰ کو دو۔ پھر یہ کہو ۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - الخ ہم کو سیدھی راہ دکھا۔ یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کئے اور وہ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کا گروہ ہے۔ اس دُعا میں ان تمام گروہوں کے فضل اور انعام کو مانگا گیا ہے۔ ان لوگوں کی راہ سے بچا جن جن پر تیرا غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔ (الحکم نمبر ۲۳ جلد ۶ مؤرخہ ۲۴ جون ۱۹۰۲ء صفحه ۲) حل السورۃ کی مناسبت سے عرفت آنا چاہیئے ۔ غالباً سہو کتابت ہے۔ (ناشر)