تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 27

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ دُعائے سورۃ فاتحہ میں تمام بنی نوع انسان کو شامل کرنا چاہیے سورة الفاتحة اس سورہ میں تین لحاظ رکھنے چاہئیں (۱) ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے (۲) تمام مسلمانوں کو (۳) تیسرے ان حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں۔پس اس طرح کی نیت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے اور یہی منشا خدا تعالیٰ کا ہے۔مکتوب حضرت مسیح موعود بنام شیخ غلام نبی صاحب مندرجه احکام نمبر ۰ ۲۱۰۲ جلد ۲۰ مورخہ ۲۸ جولائی۔۷ راگست ۱۹۳۷، صفحہ ۳) دعا میں سورت فاتحہ کے تکرار کا اثر نماز میں سورۃ فاتحہ کی دعا کا تکرار نہایت مؤثر چیز ہے کیسی ہی بے ذوقی و بے مرگی ہو۔اس عمل کو برابر جاری رکھنا چاہئے یعنی بھی تکرار آیت ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا اور بھی تکرار آیت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا اور سجدہ میں بائی يَا فَيُوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ - الحکم نمبر جلد ۲ مؤرخه ۲۰ فروری ۱۸۹۸ صفحه ۹) سورۃ فاتحہ کا ورد نماز میں بہتر ہے۔بہتر ہے کہ نماز تہجد میں اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَتَ عَلَيْهِمْ کا بدلی توجه و خضوع و خشوع تکرار کریں اور اپنے دل کو نزول انوار الہیہ کے لئے پیش کریں اور کبھی تکرار آیت ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا کیا کریں۔ان دونوں آیتوں کا تکرار انشاء اللہ القدیر تنویر قلب وتزکیہ نفس کا موجب ہوگا۔الحکم نمبر ۲۳ جلد ۷ مؤرخہ ۲۴ جون ۱۹۰۳ صفحه ۳) ثُمَّ اعْلَمْ آنْ آيَاتِ هَذهِ السُّورَةِ الْفَاتِحَةِ) واضح رہے کہ اس سورت (فاتحہ) کی آیات سات سَبْع وَالنُّجُومُ سَبْعٌ فَقَدْ حَاذَا كُلُّ وَاحِدٍ ہیں اور مشہور ستارے بھی سات ہیں۔ان آیات میں سے مِنْهَا تَجَمَّا لِيَكُونَ كُلُّهَا لِلشَّيْطن رجما ہر آیت ایک ستارے کے مقابل پر ہے تا وہ سب کی سب رَجُمًا۔رجسٹر محاورات العرب تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام) شیطان کے لئے رجم کا موجب ہوں۔( ترجمہ از مرتب) قرآن شریف میں چار سورتیں ہیں جو بہت پڑھی جاتی ہیں۔اُن میں مسیح موعود اور اس کی جماعت کا ذکر ہے۔(۱) سورۃ فاتحہ جو ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اس میں ہمارے دعوے کا ثبوت ہے۔جیسا کہ اس تفسیر میں ثابت کیا جائے گا۔(۲) سورہ جمعہ جس میں اُخَرِينَ مِنْهُم مسیح موعود کی جماعت کے متعلق ہے یہ ہر جمعہ میں پڑھی جاتی ہے۔(۳) سورہ کہف جس کے پڑھنے کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے۔اس کی پہلی اور پچھلی دس ۱۰ آیتوں میں دجال کا ذکر ہے۔(۴) آخری سورت قرآن کی جس میں دجال کا نام خناس رکھا گیا ہے۔یہ وہی لفظ ہے جو عبرانی توریت میں دجال کے واسطے آیا ہے۔یعنی محاش wna۔ایسا ہی قرآن شریف کے اور مقامات میں بھی بہت ذکر ہے۔۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۱)