تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 25

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 6 ۲۵ سورۃ فاتحہ ایک حصن حصین ہے سورة الفاتحة إِنَّ الْفَاتِحَةَ حِضْنَ حَصِيْن وَنُورٌ مُّبِين سورۃ فاتحہ ایک محفوظ قلعہ، نور مبین اور استاد و مددگار وَمُعَلِّمُ وَمُعِينَ وَإِنَّهَا يُحْصِنُ * أحكام ہے اور یہ احکام قرآنیہ کو بڑے اہتمام سے کمی بیشی سے الْقُرْآنِ مِن الزِّيَادَةِ وَالتُقصَانِ محفوظ رکھتی ہے جس طرح سرحدوں کی حفاظت کی جاتی كَتَحْصِينِ الشُّعُورِ بِأَمْرَارِ الْأُمُورِ وَمَثَلُهَا ہے اور اس کی مثال اس اونٹنی کی ہے جس کی پیٹھ پر تیری كَمَثَلِ نَاقَةٍ تَحْمِلُ كُلَّ مَا تَحْتَاجُ إِلَيْهِ ضرورت کی ہر چیز لدی ہوئی ہو اور وہ اپنے سوار کو وَتُوْصِل إلى دِيَارِ الْحِبْ مَنْ رَكِبَ عَلَيْهِ دیار محبوب تک پہنچا دے۔نیز اس پر ہر قسم کا زاد راہ نفقہ وَقَدْ حُمِلَ عَلَيْهَا مِنْ كُلِّ نَوعِ الْأَزْوَادِ وَ اور لباس و پوشاک لدی ہوئی ہو۔یا پھر اس کی مثال اس التَّفَقَاتِ وَ القِيَابِ وَ الْكِسَوَاتِ أَو چھوٹے سے حوض کی ہے جس میں بہت سا پانی ہو گویا کہ مَثَلُهَا كَمَثَلِ بِرَكَةٍ صَغِيرٍ فِيْهَا مَاءً وہ متعدد دریاؤں کا منبع ہے، یا وہ ایک عظیم دریا کی گذرگاہ غَزِيرٌ كَانَهَا تَجْمَعُ بِمَارٍ أَوْ مُجْرَى قَلَهُنَّم ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس سورہ کریمہ کے فوائد اور زَخَارٍ۔وَإِلى أَرى أَن فَوَائِدَ هَذِهِ السُّورَةِ خوبیاں اَن گنت ہیں اور ان کا شمار انسانی طاقت میں الكَرِيمَةِ وَنَفَاَيْسَهَا لَا تُعَدُّ وَ لَا تُخصی نہیں خواہ کوئی اس خواہش کی تکمیل میں اپنی عمر گزار وَلَيْسَ فِي وُسْعِ الْإِنْسَانِ أَنْ تُحْصِيهَا وَإِنْ دے۔گمراہ اور بد بخت لوگوں نے اپنی جہالت اور کند ذہنی أَنْقَد عُمرًا في هَذَا الْهَوَى وَإِنَّ أَهْلَ الْغَي کی بناء پر اس کی صحیح قدر نہیں کی۔انھوں نے اسے پڑھا تو والشَّقَاوَةِ مَا قَدَرُوهَا حَتَّى قَدْرِهَا مِن سہی لیکن باوجود بار بار پڑھنے کے وہ اس کی خوبی اور الْجَهْلِ وَالْعَبَاوَةِ وَقَرَأُوْهَا فَمَا رَأَوا خوبصورتی کو نہ پاسکے۔یہ سورت منکروں پر شدت سے طلَاوَعَهَا مَعَ تَكْرَارِ الخِلاَوَةِ وَإِنَّهَا سُورَةٌ حملہ کرنے والی اور صحت مند دلوں پر سرعت سے اثر قَوِيُّ الصَّوْلِ عَلَى الْكَفَرَةِ سَرِيعُ الْأَثْرِ کرنے والی ہے۔ہر وہ شخص جس نے اس پر ایک پر لکھنے وہ عَلَى الْأَفْئِدَةِ السَّلِيْمَةِ وَمَنْ تَأَمَّلَهَا تَأْقُل والے کی طرح نظر ڈالی اور چمکتے ہوئے چراغ کی مانند الْمُنتَقِ۔وَدَانَاهَا بِفِكْرِ منیر کالْمِصْبَاح روشن فکر کے ساتھ اس کے قریب ہوا اس نے اس کو الْمُتَّقِدِ أَلْفَاهَا نُورَ الْأَبْصَارِ وَمِفْتَاحَ آنکھوں کا نور اور اسرار کی کلید پایا۔بلاشک وشبہ یہی الْأَسْرَارِ وَإِنَّهُ الْحَقُ بِلا رَيْبٍ وَلَا رَجُم بات حق ہے اور نہ یہ کوئی ظنی بات ہے۔اگر تمہیں کوئی سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔درست " تحصن" ہے(ناشر )