تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 414
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ سورة الفاتحة کا جسم اس فنا سے طیار ہوتا ہے۔جوں جوں بندہ کا نفس شکست پکڑتا جاتا ہے اور اس کا فعل اور ارادت اور رو خلق ہونا فنا ہوتا جاتا ہے توں توں پیدائش روحانی کے اعضاء بنتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب فناء اتم حاصل ہو جاتی ہے تو وجود ثانی کی خلعت عطا کی جاتی ہے اور ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا اخر کا وقت آ جاتا ہے اور چونکہ یہ فناء اتم بغیر نصرت و توفیق و توجہ خاص قادر مطلق کے ممکن نہیں اس لئے یہ دعا تعلیم کی یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ جس کے یہ معنے ہیں کہ اے خدا ہم کو راہ راست پر قائم کر اور ہر یک طور کی بجی اور بے راہی سے نجات بخش۔اور یہ کامل استقامت اور راست روی جس کو طلب کرنے کا حکم ہے نہایت سخت کام ہے اور اول دفعہ میں اس کا حملہ سالک پر ایک شیر بہر کی طرح ہے جس کے سامنے موت نظر آتی ہے پس اگر مسالک ٹھہر گیا اور اُس موت کو قبول کر لیا تو پھر بعد اس کے کوئی اسے سخت موت نہیں اور خدا اس سے زیادہ تر کریم ہے کہ پھر اس کو یہ جلتا ہوا دوزخ دکھاوے۔غرض یہ کامل استقامت وہ فنا ہے کہ جس سے کارخانہ وجود بندہ کو بکلی شکست پہنچتی ہے اور ہوا اور شہوت اور ارادت اور ہر یک خودروی کے فعل سے بیکبارگی دستکش ہونا پڑتا ہے اور یہ مرتبہ سیر و سلوک کے مراتب میں سے وہ مرتبہ ہے جس میں انسانی کوششوں کا بہت کچھ دخل ہے اور بشری مجاہدات کی بخوبی پیش رفت ہے اور اسی حد تک اولیاء اللہ کی کوششیں اور سالکین کی محنتیں ختم ہو جاتی ہیں اور پھر بعد اس کے خاص مواہب سماوی ہیں جن میں بشری کوششوں کو کچھ دخل نہیں بلکہ خود خدائے تعالی کی طرف سے عجائبات سماوی کی سیر کرانے کے لئے غیبی سواری اور آسمانی بزاق عطا ہوتا ہے۔اور دوسری ترقی کہ جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے دوسرا قدم ہے اس آیت میں تعلیم کی گئی ہے جو فرمایا ہے صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ۔یعنی ہم کو ان لوگوں کا راہ دکھلا جن پر تیرا انعام اکرام ہے۔اس جگہ واضح رہے کہ جولوگ منعم علیہم ہیں اور خدا سے ظاہری و باطنی نعمتیں پاتے ہیں شدائد سے خالی نہیں ہیں بلکہ اس دارالا بتلاء میں ایسی ایسی شدتیں اور صعوبتیں ان کو پہنچتی ہیں کہ اگر وہ کسی دوسرے کو پہنچتیں تو مدد ایمانی اس کی منقطع ہو جاتی۔لیکن اس جہت سے اُن کا نام منعم علیہم رکھا گیا ہے کہ وہ باعث غلبہ محبت آلام کو برنگ انعام دیکھتے ہیں اور ہر یک رنج یا راحت جو دوست حقیقی کی طرف سے اُن کو پہنچتی ہے بوجہ مستی عشق اس سے لذت اٹھاتے ہیں پس یہ ترقی فی القرب کی دوسری قسم ہے جس میں اپنے محبوب کے جمیع افعال سے لذت آتی ہے اور جو کچھ اس کی طرف سے پہنچے انعام ہی انعام نظر آتا ہے اور اصل موجب اس حالت کا ایک محبت کامل اور تعلق صادق ہوتا ہے جو اپنے محبوب سے ہو جاتا ہے اور یہ ایک موہبت خاص ہوتی ہے جس