تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 413

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۳ سورة الفاتحة بصورت انعام نظر آتا ہے۔مگر ہنوز اس میں ایسا تعلق باللہ نہیں ہوتا کہ جو ماسوی اللہ کے ساتھ عداوت ذاتی پیدا ہو جانے کا موجب ہو اور جس سے محبت الہی صرف دل کا مقصد ہی نہ رہے بلکہ دل کی سرشت بھی ہو جائے۔غرض قسم دویم کی ترقی میں خدا سے موافقت تامہ کرنا اور اس کے غیر سے عداوت رکھنا سالک کا مقصد ہوتا ہے اور اس مقصد کے حصول سے وہ لذت پاتا ہے لیکن قسم سوم کی ترقی میں خدا سے موافقت نامہ اور اس کے غیر سے عداوت خود سالک کی سرشت ہو جاتی ہے جس سرشت کو وہ کسی حالت میں چھوڑ نہیں سکتا۔کیونکہ انفكاك الشيء عن نفسه محال ہے برخلاف قسم دوم کے کہ اُس میں انفکاک جائز ہے اور جب تک ولایت کسی ولی کی قسم سوم تک نہیں پہنچتی عارضی ہے اور خطرات سے امن میں نہیں۔وجہ یہ کہ جب تک انسان کی سرشت میں خدا کی محبت اور اس کے غیر کی عداوت داخل نہیں۔تب تک کچھ رگ وریشہ ظلم کا اس میں باقی ہے کیونکہ اُس نے حق ربوبیت کو جیسا کہ چاہئے تھا ادا نہیں کیا۔اور لقاء تام حاصل کرنے سے ہنوز قاصر ہے۔لیکن جب اس کی سرشت میں محبت الہی اور موافقت باللہ بخوبی داخل ہوگئی یہاں تک کہ خدا اس کے کان ہو گیا جن سے وہ سنتا ہے۔اور اس کی آنکھیں ہو گیا جن سے وہ دیکھتا ہے۔اور اس کا ہاتھ ہو گیا جس سے وہ پکڑتا ہے۔اور اس کا پاؤں ہو گیا جس سے وہ چلتا ہے تو پھر کوئی ظلم اس میں باقی نہ رہا اور ہر ایک خطرہ سے امن میں آ گیا۔اسی درجہ کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إيمَانَهُمْ يظلم أوليك لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ۔(الانعام: ۸۳) اب سمجھنا چاہئے کہ یہ ترقیات ثلاثہ کہ جو تمام علوم و معارف کا اصل الاصول بلکہ تمام دین کا لب لباب ہے سورۃ فاتحہ میں تمام تر خوبی و رعایت ایجاز و خوش اسلوبی بیان کئے گئے ہیں چنانچہ پہلی ترقی کہ جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے اوّل قدم ہے اس آیت میں تعلیم کی گئی ہے جو فرمایا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ - کیونکہ ہر یک قسم کی کجی اور بے راہی سے باز آ کر اور بالکل رو بخدا ہو کر راہ راست کو اختیار کرنا یہ وہی سخت گھائی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں فنا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ امور مالوفہ اور معتادہ کو یکلخت چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشوں کو جو ایک عمر سے عادت ہو چکی ہے یکدفعہ ترک کرنا اور ہر یک ننگ اور ناموس اور عجب اور ریا سے مونہہ پھیر کر اور تمام ماسو اللہ کو کالعدم سمجھ کر سیدھا خدا کی طرف رخ کر لینا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو موت کے برابر ہے اور یہ موت روحانی پیدائش کا مدار ہے۔اور جیسے دانہ جب تک خاک میں نہیں ملتا اور اپنی صورت کو نہیں چھوڑتا تب تک نیادانہ وجود میں آنا غیر ممکن ہے۔اسی طرح روحانی پیدائش