تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 415

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۵ سورة الفاتحة میں حیلہ اور تدبیر کو کچھ دخل نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے آتی ہے اور جب آتی ہے تو پھر سالک ایک دوسرا رنگ پکڑ لیتا ہے اور تمام بوجھ اس کے سر سے اتارے جاتے ہیں اور ہر یک ایلام انعام ہی معلوم ہوتا ہے اور شکوہ اور شکایت کا نشان نہیں ہوتا۔پس یہ حالت ایسی ہوتی ہے کہ گویا انسان بعد موت کے زندہ کیا گیا ہے کیونکہ ان تلخیوں سے بکلی نکل آتا ہے جو پہلے درجہ میں تھیں جن سے ہر ایک وقت موت کا سامنا معلوم ہوتا تھا مگر اب چاروں طرف سے انعام ہی انعام پاتا ہے اور اسی جہت سے اس کی حالت کے مناسب حال یہی تھا کہ اس کا نام منعم علیہ رکھا جاتا اور دوسرے لفظوں میں اس حالت کا نام بقا ہے کیونکہ سالک اس حالت میں اپنے تئیں ایسا پاتا ہے کہ گویا وہ مرا ہوا تھا اور اب زندہ ہو گیا۔اور اپنے نفس میں بڑی خوشحالی اور انشراح صدر دیکھتا ہے اور بشریت کے انقباض سب دور ہو جاتے ہیں اور الوہیت کے مربیانہ انوار نعمت کی طرح برستے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اسی مرتبہ میں سالک پر ہر یک نعمت کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور عنایات الہیہ کامل طور پر متوجہ ہوتی ہیں اور اس مرتبہ کا نام سیر فی اللہ ہے۔کیونکہ اس مرتبہ میں ربوبیت کے عجائبات سالک پر کھولے جاتے ہیں اور جور بانی نعمتیں دوسروں سے مخفی ہیں ان کا اس کو سیر کرایا جاتا ہے کشوف صادقہ سے متمتع ہوتا ہے اور مخاطبات حضرت احدیت سے سرفرازی پاتا ہے۔اور عالم ثانی کے باریک بھیدوں سے مطلع کیا جاتا ہے اور علوم اور معارف سے وافر حصہ دیا جاتا ہے۔غرض ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہت کچھ اس کو عطا کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس درجہ و یقین کامل تک پہنچتا ہے کہ گو یا مد بر حقیقی کو چشم خود دیکھتا ہے۔سواس طور کی اطلاع کامل جو اسرار سماوی میں اس کو بخشے جاتے ہیں۔اس کا نام سیر فی اللہ ہے لیکن یہ وہ مرتبہ ہے جس میں محبت الہی انسان کو دی تو جاتی ہے لیکن بطریق طبعیت اس میں قائم نہیں کی جاتی یعنی اس کی سرشت میں داخل نہیں ہوتی۔بلکہ اس میں محفوظ ہوتی ہے۔اور تیسری ترقی جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے انتہائی قدم ہے۔اس آیت میں تعلیم کی گئی ہے۔جو فرمایا ہے۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضالين یہ وہ مرتبہ ہے جس میں انسان کو خدا کی محبت اور اس کے غیر کی عداوت سرشت میں داخل ہو جاتی ہے۔اور بطریق طبعیت اس میں قیام پکڑتی ہے اور صاحب اس مرتبہ کا اخلاق الہیہ سے ایسا ہی بالطبع پیار کرتا ہے کہ جیسے وہ اخلاق حضرت احدیت میں محبوب ہیں اور محبت ذاتی حضرت خداوند کریم کی اس قدر اُس کے دل میں آمیزش کر جاتی ہے کہ اُس کے دل سے محبت الہی کا منفک ہونا ستحیل اور ممتنع ہوتا ہے۔اور اگر اس کے دل کو اور اس کی جان کو بڑے بڑے امتحانوں اور ابتلاؤں کے سخت صدمات کے بیچ میں دے کر کوفتہ کیا الصَّالِينَ