تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 412
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۲ سورة الفاتحة لذت اور بجائے رنج کے راحت اور بجائے تنگی کے انشراح اور بشاشت نمودار ہو۔اور ترقیات کا اعلیٰ درجہ وہ ہے کہ سالک اس قدر خدا اور اس کے ارادوں اور خواہشوں سے اتحاد اور محبت اور یک جہتی پیدا کر لے کہ اس کا تمام اپنائین واثر جاتا رہے۔اور ذات اور صفات الہیہ بلا شائبہ ظلمت اور بلا تو ہم حالیت و محلیت اس کے وجود آئینہ صفت میں منعکس ہو جائیں۔اور فنا اتم کے آئینہ کے ذریعہ سے جس نے سالک میں اور اس کی نفسانی خواہشوں میں غایت درجہ کا بعد ڈال دیا ہے انعکاس ربانی ذات اور صفات کا نہایت صفائی سے دکھائی دے۔اس تقریر میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس میں وجود یوں یا ویدانتیوں کے باطل خیال کی تائید ہو۔کیونکہ انہوں نے خالق اور مخلوق میں جو ابدی امتیاز ہے شناخت نہیں کیا۔اور اپنے کشوف مشتبہ کے دھوکہ سے کہ جو سلوک نا تمام کی حالت میں اکثر پیش آ جاتے ہیں یا جو سودا انگیز ریاضتوں کا ایک نتیجہ ہوتا ہے سخت مغالطات کے بیچ میں پڑ گئے یا کسی نے سکر اور بے خودی کی حالت میں جو ایک قسم کا جنون ہے اس فرق کو نظر سے ساقط کر دیا کہ جو خدا کی روح اور انسان کی روح میں باعتبار طاقتوں اور قوتوں اور کمالات اور تقدسات کے ہے ورنہ ظاہر ہے کہ قادر مطلق کہ جس کے علم قدیم سے ایک ذرہ مخفی نہیں اور جس کی طرف کوئی نقصان اور خسران عائد نہیں ہوسکتا اور جو ہر یک قسم کے جہل اور آلودگی اور ناتوانی اور غم اور حزن اور درد اور رنج اور گرفتاری سے پاک ہے وہ کیوں کر اس چیز کا عین ہو سکتا ہے کہ جو ان سب بلاؤں میں مبتلا ہے۔کیا انسان جس کی روحانی ترقیات کے لئے اس قدر حالات منتظرہ ہیں جن کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا۔وہ اُس ذات صاحب کمال تا م سے مشابہ یا اس کا عین ہو سکتا ہے جس کے لئے کوئی حالت منتظر و باقی نہیں؟ کیا جس کی ہستی فانی اور جس کی روح میں صریح مخلوقیت کے نقصان پائے جاتے ہیں۔وہ باوجود اپنی تمام آلائشوں اور کمزوریوں اور ناپاکیوں اور عیبوں اور نقصانوں کے اس ذات جلیل الصفات سے برابر ہو سکتا ہے جو اپنی خوبیوں اور پاک صفتوں میں ازلی ابدی طور پر اتم اور اکمل ہے۔سُبْحْنَةَ وَتَعَلى عَمَّا يَصِفُونَ (الانعام : ١٠١) بلکہ اس تیسرے قسم کی ترقی سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ سالک خدا کی محبت میں ایسا فانی اور مستبلک ہو جاتا ہے اور اس قدر ذات بے چون و بے چگون اپنی تمام صفات کاملہ کے ساتھ اُس سے قریب ہو جاتی ہے کہ الوہیت کے تجلیات اس کے نفسانی جذبات پر ایسے غالب آ جاتے ہیں اور ایسے اس کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں جو اس کو اپنے نفسانی جذبات سے بلکہ ہر یک سے جو نفسانی جذبات کا تابع ہو مغائرت کلی اور عداوت ذاتی پیدا ہو جاتی ہے اور اس میں اور قسم دویم کی ترقی میں فرق یہ ہے کہ گو قسم دویم میں بھی اپنے رب کی مرضی سے موافقت نامہ پیدا ہو جاتی ہے اور اُس کا ایلام