تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 411
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۱ سورة الفاتحة چوتھا مقصد قرآن شریف کا خدا کا وہ فیضان ثابت کرنا ہے جو محنت اور کوشش پر مترتب ہوتا ہے۔سو یہ مقصد لفظ رحیم میں آ گیا۔پانچواں مقصد قرآن شریف کا عالم معاد کی حقیقت بیان کرنا ہے۔سو یہ مقصد لملكِ يَوْمِ الدِّينِ میں آ گیا۔چھٹا مقصد قرآن شریف کا اخلاص اور عبودیت اور تزکیہ نفس عن غیر اللہ اور علاج امراض روحانی اور اصلاح اخلاق ردیہ اور توحید فی العبادت کا بیان کرنا ہے۔سو یہ مقصد انياكَ نَعْبُدُ میں بطور اجمال آ گیا۔ساتواں مقصد قرآن شریف کا ہر ایک کام میں فاعل حقیقی خدا کو ٹھہرانا اور تمام توفیق اور لطف اور نصرت اور ثبات علی الطاعت اور عصمت عن العصیان اور حصول جمیع اسباب خیر اور صلاحیت دنیا و دین اس کی طرف اسے قرار دینا اور ان تمام امور میں اس سے مدد چاہنے کے لئے تاکید کرنا سو یہ مقصد ايَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بطور اجمال آ گیا۔آٹھواں مقصد قرآن شریف کا صراط مستقیم کے دقائق کو بیان کرنا ہے اور پھر اس کی طلب کے لئے تاکید کرنا کہ دعا اور تضرع سے اس کو طلب کریں سو یہ مقصد اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں بطور اجمال کے آ گیا۔نواں مقصد قرآن شریف کا اُن لوگوں کا طریق و خلق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا انعام و فضل ہوا تا طالبین حق کے دل جمعیت پکڑیں سو یہ مقصد صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں آگیا۔دسواں مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا خلق و طریق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا غضب ہوا۔یا جو راستہ بھول کر انواع اقسام کی بدعتوں میں پڑ گئے۔تاحق کے طالب ان کی راہوں سے ڈریں۔سو یہ مقصد غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ میں بطور اجمال آ گیا ہے۔یہ مقاصد عشرہ ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہیں جو تمام صداقتوں کا اصل الاصول ہیں۔سو یہ تمام مقاصد سورۂ فاتحہ میں بطور اجمال آگئے۔پانچواں لطیفہ سورۃ فاتحہ میں یہ ہے کہ وہ اس اتم اور اکمل تعلیم پر مشتمل ہے کہ جو طالب حق کے لئے ضروری ہے۔اور جو ترقیات قربت اور معرفت کے لئے کامل دستور العمل ہے۔کیونکہ ترقیات قربت کا شروع اس نقطہ سیر سے ہے کہ جب سالک اپنے نفس پر ایک موت قبول کر کے اور سختی اور آزار کشی کو روا رکھ کر اُن تمام نفسانی خواہشوں سے خالصایله دست کش ہو جائے کہ جو اس میں اور اس کے مولیٰ کریم میں جدائی ڈالتے ہیں اور اس کے مونہہ کو خدا کی طرف سے پھیر کر اپنی نفسانی لذات اور جذبات اور عادات اور خیالات اور ارادات اور نیز مخلوق کی طرف پھیرتے ہیں اور اُن کے خوفوں اور امیدوں میں گرفتار کرتے ہیں اور ترقیات کا اوسط درجہ وہ ہے کہ جو جو ابتدائی درجہ میں نفس کشی کے لئے تکالیف اٹھائی جاتی ہیں اور حالت معتادہ کو چھوڑ کر طرح طرح کے دکھ سہنے پڑتے ہیں وہ سب آلام صورت انعام میں ظاہر ہو جا ئیں اور بجائے مشقت کے