تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 347
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۷ سورة الفاتحة حضرت عیسی علیہ السلام کو کا فر ٹھہرایا اور اس کو ملعون اور واجب القتل قرار دیا اور اس کی نسبت سخت درجہ پر غضب اور غصہ میں بھر گئے اس لئے وہ اپنے ہی غضب کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی نظر میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ٹھہرائے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے چھ سو برس بعد میں پیدا ہوئے۔اب ظاہر ہے کہ آپ کی اُمت کو جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دُعا سورہ فاتحہ میں سکھلائی گئی اور تاکید کی گئی کہ پانچ وقت کی نماز اور تہجد اور اشراق اور دونوں عیدوں میں یہی دُعا پڑھا کریں اس میں کیا بھید تھا ؟ جس حالت میں ان یہودیوں کا زمانہ اسلام کے زمانہ سے پہلے مدت سے منقطع ہو چکا تھا تو یہ دُعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی اور کیوں اس دُعا میں ی تعلیم دی گئی کہ مسلمان لوگ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے پنجوقت پناہ مانگتے رہیں جو یہودیوں کا وہ فرقہ نہ بن جائیں جو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہیں؟ پس اِس دُعا سے صاف طور پر سمجھ آتا ہے کہ اس امت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہونے والا ہے اور ایک فرقہ مسلمانوں کے علماء کا اس کی تکفیر کرے گا اور اُس کے قتل کی نسبت فتویٰ دے گا۔لہذا سورہ فاتحہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا کو تعلیم کر کے سب مسلمانوں کو ڈرایا گیا کہ وہ خدا تعالیٰ سے دُعا کرتے رہیں کہ ان یہودیوں کی مشکل نہ بن جائیں جنہوں نے حضرت عیسی بن مریم پر کفر کا فتویٰ لکھا تھا اور اُن پر قتل کا فتویٰ دیا تھا اور نیز ان کے پرائیویٹ اُمور میں دخل دے کر اُن کی ماں پر افترا کیا تھا اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں یہ سخت اور عادت مستمرہ ہے کہ جب وہ ایک گروہ کو کسی کام سے منع کرتا ہے یا اس کام سے بچنے کے لئے دعا سکھلاتا ہے تو اس کا اس سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ بعض اُن میں سے ضرور اس جرم کا ارتکاب کریں گے۔لہذا اس اصول کے رو سے جو خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں پایا جاتا ہے صاف سمجھ آتا ہے جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا سکھلانے سے یہ مطلب تھا کہ ایک فرقہ مسلمانوں میں سے پورے طور پر یہودیوں کی پیروی کرے گا اور خدا کے مسیح کی تکفیر کر کے اور اس کی نسبت قتل کا فتویٰ لکھ کر اللہ تعالیٰ کو غضب میں لائے گا اور یہودیوں کی طرح مغضُوبِ عَلَيْهِمْ کا خطاب پائے گا۔یہ ایسی صاف پیشگوئی ہے کہ جب تک انسان عمدا بے ایمانی پر کمر بستہ نہ ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا اور صرف قرآن نے ہی ایسے لوگوں کو یہودی نہیں بنایا بلکہ حدیث بھی یہی خطاب اُن کو دے رہی ہے اور صاف بتلا رہی ہے کہ یہودیوں کی طرح اس اُمت کے علماء بھی مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگا ئیں گے اور مسیح موعود کے سخت دشمن اس زمانہ کے مولوی ہوں گے کیونکہ اس سے ان کی عالمانہ عزب تہیں جاتی رہیں گی۔اور لوگوں کے رجوع میں فرق آجائے گا اور یہ حدیثیں اسلام میں بہت مشہور ہیں یہاں تک کہ فتوحات مکی میں بھی اس کا ذکر ہے کہ