تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 346

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۶ سورة الفاتحة ظاہر فرمائے گئے تا دل بول اٹھے کہ وہی معبود ہے چنانچہ انسانی فطرت نے ان پاک صفات کا دلدادہ ہو کر اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا اقرار کیا اور پھر اپنی کمزوری کو دیکھا تو اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنا پڑا۔اور پھر خدا سے مدد پا کر یہ دعا کی جو جمیع اقسام شر سے بچنے کے لئے اور جمیع اقسام خیر کو جمع کرنے کے لئے کافی و وافی ہے۔یعنی یہ دعا کہ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔آمین۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۸۴، ۲۸۵ حاشیه ) قرآن شریف کے رُو سے کئی انسانوں کا بروزی طور پر آنا مقدر تھا۔(۱) اوّل مثیل موسیٰ کا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جیسا کہ آیت إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل:۱۲) سے ثابت ہے (۲) دوم خلفاء موسیٰ کے مثیلوں کا جن میں مثیل مسیح بھی داخل ہے جیسا کہ آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ( النور : ٥٦) سے ثابت ہے (۳) عام صحابہ کے مثیلوں کا جیسا کہ آیت وَ اخَرِيْنَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة : ۴) سے ثابت ہے (۴) چہارم اُن یہودیوں کے مثیلوں کا جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لکھا اور ان کو قتل کرنے کے لئے فتوے دیئے اور اُن کی ایذا اور قتل کے لئے سعی کی جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں جو دُعا سکھائی گئی ہے اس سے صاف مترشح ہو رہا ہے (۵) پنجم یہودیوں کے بادشاہوں کے اُن مثیلوں کا جو اسلام میں پیدا ہوئے جیسا کہ ان دو بالمقابل آیتوں سے جن کے الفاظ باہم ملتے ہیں سمجھا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں :- یہودیوں کے بادشاہوں کی نسبت اسلام کے بادشاہوں کی نسبت قَالَ عَسى رَبِّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدْوَكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَليفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (الاعراف: ۱۳۰ ) كَيْفَ تَعْمَلُونَ (یونس: ۱۵) (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۶) اگر یہ لوگ بھی کفر اور قتل کا فتویٰ نہ دیتے تو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا جو سورہ فاتحہ میں سکھائی گئی ہے جو پیشگوئی کے رنگ میں تھی کیونکر پوری ہوتی کیونکہ سورہ فاتحہ میں جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا فقرہ ہے اس سے مراد جیسا کہ فتح الباری اور در منثور وغیرہ میں لکھا ہے یہودی ہیں۔اور یہودیوں کا بڑا واقعہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قریب تر زمانہ میں وقوع میں آیا وہ یہی واقعہ تھا جو انہوں نے