تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 348
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ سورة الفاتحة مسیح موعود جب نازل ہوگا تو اس کی یہی عزت کی جائے گی کہ اس کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے گا اور ایک مولوی صاحب اٹھیں گے اور کہیں گے ان هذا الرجل غیر دیننا۔یعنی یہ شخص کیسا مسیح موعود ہے اس شخص نے تو ہمارے دین کو بگاڑ دیا۔یعنی یہ ہماری حدیثوں کے اعتقاد کو نہیں مانتا اور ہمارے پرانے عقیدوں کی مخالفت کرتا ہے۔اور بعض حدیثوں میں یہ بھی آیا ہے کہ اس اُمت کے بعض علماء یہودیوں کی سخت پیروی کریں گے یہاں تک کہ اگر کسی یہودی مولوی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہے تو وہ بھی اپنی ماں سے زنا کریں گے اور اگر کوئی یہودی فقیہ سوسمار کے سوراخ کے اندر گھسا ہے تو وہ بھی گھسیں گے۔یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ انجیل اور قرآن شریف میں جہاں یہودیوں کا کچھ خراب حال بیان کیا ہے وہاں دنیا داروں اور عوام کا تذکرہ نہیں بلکہ ان کے مولوی اور فقیہ اور سردار کا ہن مراد ہیں جن کے ہاتھ میں کفر کے فتوے ہوتے ہیں اور جن کے وعظوں پر عوام افروختہ ہو جاتے ہیں۔اسی واسطے قرآن شریف میں ایسے یہودیوں کی اس گدھے سے مثال دی ہے جو کتابوں سے لدا ہوا ہو۔ظاہر ہے کہ عوام کو کتابوں سے کچھ سروکار نہیں۔کتا ہیں تو مولوی لوگ رکھا کرتے ہیں۔لہذا یہ بات یادر رکھنے کے لائق ہے کہ جہاں انجیل اور قرآن اور حدیث میں یہودیوں کا ذکر ہے وہاں ان کے مولوی اور علماء مراد ہیں۔اور اسی طرح غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے لفظ سے عام مسلمان مراد نہیں ہیں۔بلکہ اُن کے مولوی مراد ہیں۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۸ تا ۳۳۰) قرآن شریف کی پہلی ہی سورت میں جو اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے کہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اور ضَالِينَ لوگوں میں سے نہ بننا۔یعنی اے مسلمانوں تم یہود اور نصاری کے خصائل کو اختیار نہ کرنا۔اس میں سے بھی ایک پیشگوئی نکلتی ہے کہ بعض مسلمان ایسا کریں گے۔یعنی ایک زمانہ آوے گا کہ اُن میں سے بعض یہود اور نصاری کے خصائل اختیار کریں گے۔کیونکہ حکم ہمیشہ ایسے امر کے متعلق دیا جاتا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والے بعض لوگ ہوتے ہیں۔الحام جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۱۰) قرآن شریف کو سورۃ فاتحہ سے شروع کر کے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّانِيْنَ پر ختم کیا ہے۔لیکن جب ہم مسلمانوں کے معتقدات پر نظر کرتے ہیں تو دجال کا فتنہ ان کے ہاں عظیم الشان فتنہ ہے اور یہ ہم کبھی تسلیم نہیں کر سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ دنبال کا ذکر ہی بھول گیا ہو۔نہیں بات اصل یہ ہے کہ دجال کا مفہوم سمجھنے میں لوگوں نے دھوکا کھایا ہے۔سورۃ فاتحہ میں جود وفتوں سے بچنے کی دعا سکھائی ہے۔اوّل