تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 345

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۵ سورة الفاتحة ظاہر ہوں گے۔اور اس جگہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر بوجہ تکفیر و توہین و ایذ اوارادہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الہی نازل ہوگا۔یہ میرے جانی دشمنوں کے لئے قرآن کی پیشگوئی ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱۲، ۲۱۳) الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ سے وہ علماء یہودی مراد ہیں جنہوں نے شدت عداوت کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ بھی روا نہ رکھا کہ ان کو مومن قرار دیا جائے بلکہ کافر کہا اور واجب القتل قرار دیا۔اور مَغْضُوبِ عَلَيْه وه شديد الغضب انسان ہوتا ہے جس کے غضب کے غلو پر دوسرے کو غضب آوے۔اور یہ دونوں لفظ با ہم مقابل واقع ہیں۔یعنی ضالین وہ ہیں جنہوں نے افراط محبت سے حضرت عیسی کو خدا بنایا اور الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وہ یہودی ہیں جنہوں نے خدا کے مسیح کو افراط عداوت سے کافر قرار دیا۔اس لئے مسلمانوں کو سورۃ فاتحہ میں ڈرایا گیا اور اشارہ کیا گیا کہ تمہیں یہ دونوں امتحان پیش آئیں گے۔مسیح موعود آئے گا اور پہلے مسیح کی طرح اُس کی بھی تکفیر کی جائے گی اور ضالین یعنی عیسائیوں کا غلبہ بھی کمال کو پہنچ جائے گا جو حضرت عیسی کو خدا کہتے ہیں تم ان دونوں فتنوں سے اپنے تئیں بچاؤ اور بچنے کے لئے نمازوں میں دعائیں کرتے رہو۔تحفه گوار و سیه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۶۹ حاشیه در حاشیه ) ضالین سے مراد صرف گمراہ نہیں بلکہ وہ عیسائی مراد ہیں جو افراط محبت کی وجہ سے حضرت عیسی کی شان میں غلو کرتے ہیں۔کیونکہ ضلالت کے یہ بھی معنے ہیں کہ افراط محبت سے ایک شخص کو ایسا اختیار کیا جائے کہ دوسرے کا عزت کے ساتھ نام سکنے کی بھی برداشت نہ رہے جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے مراد ہیں کہ اِنَّكَ لَفِي ضَلِكَ الْقَدِيمِ (يوسف : ٩٢ ) - (تحفہ گولر و سیہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۶۹ حاشیه در حاشیه ) ضاتین پر اس سورۃ کو ختم کیا ہے۔یعنی ساتویں آیت پر جو ضالین کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی۔یہ سورۃ در حقیقت بڑے دقائق اور حقائق کی جامع ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں۔اور اس سورۃ کی یہ دعا کہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِینَ یہ صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اس امت کے لئے ایک آنے والے گروہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے ظہور سے اور دوسرے گروہ ضالین کے غلبہ کے زمانہ میں ایک سخت ابتلا در پیش ہے جس سے بچنے کے لئے پانچ وقت دعا کرنی چاہئے۔اور یہ دعا سورۃ فاتحہ کی اس طور پر سکھائی گئی کہ پہلے الْحَمْدُ لِلهِ سے مُلِكِ يَوْمِ اللین تک خدا کے محامد اور صفات جمالیہ اور جلالیہ 99191