تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 344
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۴ سورة الفاتحة یا درکھو اور خوب یا درکھو کہ سورہ فاتحہ میں صرف دوفتنوں سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی ہے۔(۱) اول یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کا فرقراردینا۔اُس کی توہین کرنا۔اُس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا۔اُس کے قتل کا فتویٰ دینا۔جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے (۲) دوسرے نصاری کے فتنے سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ و نصاری ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔غرض اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس عاجز کی نسبت قرآن شریف نے اپنی پہلی سورۃ میں ہی گواہی دے دی اور نہ ثابت کرنا چاہئے کہ کن مغضوب علیہم سے اس سورۃ میں ڈرایا گیا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حدیث اور قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بعض علماء کو یہود سے نسبت دی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جو سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ اور مسیح موعود تھے کا فرٹھہرایا تھا اور اُن کی سخت تو ہین کی تھی اور اُن کے پرائیویٹ امور میں افترائی طور پر نقص ظاہر کئے تھے۔پس جبکہ یہی لفظ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ كا ان یہودیوں کے مثیلوں پر بولا گیا جن کا نام بوجہ تکفیر و توہین حضرت مسیح مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ رکھا گیا تھا۔پس اس جگہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے پورے مفہوم کو پیش نظر رکھ کر جب سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ آنے والے مسیح موعود کی نسبت صاف اور صریح پیشگوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے پہلے مسیح کی طرح ایذا اُٹھائے گا۔اور یہ دُعا کہ یا الہی ہمیں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہونے سے بچا۔اس سے قطعی یقینی یہی معنے ہیں کہ ہمیں اس سے بچا کہ ہم تیرے مسیح موعود کو جو پہلے مسیح کا مثیل ہے ایذا نہ دیں اُس کو کافر نہ ٹھہرائیں۔ان معنوں کے لئے یہ قرینہ کافی ہے کہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ صرف اُن یہودیوں کا نام ہے جنہوں نے حضرت مسیح کو ایذا دی تھی اور حدیثوں میں آخری زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا ہے یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تکفیر وتوہین کی تھی۔اور اس دُعا میں ہے کہ یا الہی ! ہمیں وہ فرقہ مت بنا جن کا نام مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ ہے۔پس دُعا کے رنگ میں یہ ایک پیشگوئی ہے جود و خبر پر مشتمل ہے۔ایک یہ کہ اس اُمت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہوگا۔اور دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ بعض لوگ اس اُمت میں سے اُس کی بھی تکفیر اور توہین کریں گے اور وہ لوگ مورد نغضب الہی ہوں گے اور اس وقت کا نشان یہ ہے کہ فتنہ نصاری بھی اُن دنوں میں حد سے بڑھا ہوا ہوگا۔جن کا نام ضالین ہے اور ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگر چہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنوا نہیں ہوئے مگر اس غضب کے آثار قیامت کو