تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 327
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۷ سورة الفاتحة ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔گو یا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ جو کہا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ (ال عمران:11) یہ جھوٹ تھا نعوذ باللہ۔اگر یہ معنے کئے جاویں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامتہ کی بجائے شر الامم ہوئی یہ اُمت جبکہ اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا تو یہ تو كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَالُ ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہئے نہ یہ کہ خیر الام۔اور پھر سورۃ فاتحہ کی دعا بھی لغو جاتی ہے۔اس میں جو لکھا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو مجھنا چاہئے کہ ان پہلوؤں کے پلاؤ زردے مانگنے کی دعا سکھائی ہے اور ان کی جسمانی لذات اور انعامات کے مورث ہونے کی خواہش کی گئی ہے؟ ہر گز نہیں۔اور اگر یہی معنے ہیں تو باقی رہ ہی کیا گیا جس سے اسلام کا علق الخام جلدے نمبر ۱۴ مؤرخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸) ثابت ہووے۔یہ وجودی سخت قابل نفرت اور قابل کراہت ہیں۔افسوس کا مقام ہے کہ جس قدر گدیاں ہیں ان میں سے شاید ایک بھی ایسی نہیں ہوگی جو یہ مذہب نہ رکھتی ہو۔سب سے زیادہ افسوس یہ ہے کہ سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا فرقہ جو قادری کہلاتا ہے وہ بھی وجودی ہو گئے ہیں حالانکہ سید عبدالقادر جیلانی وجودی نہ تھے۔ان کا طرز عمل اور ان کی تصنیفات اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی عملی تصدیق دکھاتی ہیں۔علماء صرف یہ سمجھتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صرف پڑھنے کے لیے ہے لیکن اس کے اثرات اور نتائج کچھ نہیں مگر وہ عملی طور پر دکھاتے ہیں کہ ان منعم علیہ لوگوں کے نمونے اس امت میں ہوتے ہیں۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ گوایسے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں۔لیکن ہیں ضرور جو خدا تعالیٰ سے کامل محبت کرتے ہیں اور اسی دنیا میں رہ کر انقطاع اور سفر آخرت کی تیاری کرتے ہیں۔یہ امور ایسے ہی لوگوں کے حصہ میں آئے ہیں۔جیسے سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مؤرخه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحه ۸) اگر وحی نہ ہو تو پھر اهدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ کے کیا معنے ہوں گے۔کیا یہاں انعام سے مراد گوشت پلا ؤ وغیرہ ہے یا کہ خلعت نبوت اور مکالمہ الہی وغیرہ جو کہ انبیاء کو عطا ہوتا رہا ہے۔غرض کہ معرفت تا ئم انبیاء کو سوائے وحی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔جس غرض کے لئے انسان اسلام قبول کرتا ہے اس کا مغز یہی ہے کہ اس کے اتباع سے وحی ملے۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مؤرخه ۴ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۵۸)