تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 326

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۶ سورة الفاتحة ہے لیکن اگر قصور وار زیادہ کا حقدار ہو تو پھر تحصیلدار یہ کہ کر کہ یہ میرے اختیار سے باہر ہے اور کہ تمہاری سزا کا یہاں موقع نہیں کسی اعلیٰ افسر کے سپرد کرتا ہے اسی طرح یہودیوں کی شرارتیں اور شوخیاں اسی حد تک ہیں کہ ان کی سزا اسی دنیا میں دی جاسکتی تھی۔لیکن ضالین کی سزا یہ دنیا برداشت نہیں کرسکتی۔کیونکہ ان کا عقیدہ ایسا نفرتی عقیدہ ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَ تَنشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُ الْجِبَالُ هَذَّاتِ أَنْ دَعَوُا لِلرَّحينِ وَلَدًا (مريم : ۹۱، ۹۲) یعنی یہ ایک ایسا بُرا کام ہے جس سے قریب ہے کہ زمین آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جا ئیں۔غرض یہودیوں کی چونکہ سزا تھوڑی تھی اس لئے ان کو اسی جہان میں دی گئی اور عیسائیوں کی سزا اس قدر سخت ہے کہ یہ جہان اس کی برداشت نہیں کر سکتا اس لئے ان کی سزا کے واسطے دوسرا جہان مقرر ہے۔اور پھر یہ بات بھی یادرکھنے والی ہے کہ یہ عیسائی صرف ضال ہی نہیں ہیں بلکہ مضل بھی ہیں۔ان کا دن رات یہی پیشہ ہے کہ اوروں کو گمراہ کرتے پھریں۔پچاس پچاس ہزار ساٹھ ساٹھ ہزار بلکہ لاکھوں پرچے ہر روز شائع کرتے ہیں اور اس باطل عقیدہ کی اشاعت کے لئے ہر طرح کے بہانے عمل میں لاتے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲ مؤرخه ۶ /جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳، ۴) ایک شخص نے سوال کیا۔بعض مخالف کہتے ہیں کہ ہم بھی تو اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے ہیں ہم کو یہودی اور مغضوب کیوں کہا جاتا ہے؟ فرمایا کہ یہودی بھی تو ہدایت اب تک طلب کر رہے ہیں اور اھدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ مانگ رہے ہیں اور توریت پڑھتے ہیں مگر گمراہ کیوں ہیں؟ الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹) عرب صاحب نے سوال کیا کہ مسیح موعود کے متعلق قرآن میں کہاں کہاں ذکر ہے۔فرمایا۔سورۃ فاتحہ، وو سورہ نور ، سورہ تحریم۔سورہ فاتحہ میں تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔سورہ نور میں وعد الله الذينَ آمَنُوا مِنكُم ( النور : (۵) اور سورہ تحریم میں جہاں مومنوں کی مثالیں بیان کی ہیں وہاں مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِي اَحْصَنَتُ فَرْجَهَا (التحريم : ۱۳) - الحکم جلد نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۰)۔نماز کوئی ایسی ویسی شئے نہیں ہے بلکہ یہ وہ شے ہے جس میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ الخ جیسی دُعا کی جاتی ہے۔اس دُعا میں بتلایا گیا ہے کہ جو لوگ بڑے کام کرتے ہیں ان پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا غضب آتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مؤرخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۹) اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست