تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 319

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١٩ سورة الفاتحة اب اس وقت کون اُٹھے اور کون اتنی تکلیف اٹھاوے۔یہ تینوں مثالیں ان تینوں حالتوں کی ہیں جو انسان کے اپنے ہی فعل یا اپنی ہی شستی سے پیدا ہو جاتی ہیں جن میں سے پہلی حالت کا نام حسب تصریح گذشتہ کے انعام الہی اور دوسری حالت کا نام غضب الہی اور تیسری حالت کا نام اضلال الہی ہے ان تینوں صداقتوں سے بھی ہمارے مخالفین بے خبر ہیں۔کیونکہ برہمو سماج والوں کو اس صداقت سے بالکل اطلاع نہیں ہے جس کے رو سے خدائے تعالیٰ سرکش اور غضب ناک بندوں کے ساتھ غضبناک کا معاملہ کرتا ہے۔چنانچہ برہمو صاحبوں میں سے ایک صاحب نے اس بارہ میں انہیں دنوں میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے جس میں صاحب موصوف خدا کی کتابوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں غضب کی صفت خدائے تعالیٰ کی طرف کیونکر منسوب کی گئی ہے کیا خدا ہماری کمزوریوں پر چڑاتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر صاحب راقم کو اس صداقت کی کچھ بھی خبر ہوتی تو کیوں وہ ناحق اپنے اوقات ضائع کر کے ایک ایسا رسالہ چھپواتے جس سے ان کی کم فہمی ہر یک پرکھل گئی ہے اور اُن کو باوجود دعوی عقل کے یہ بات سمجھ نہ آئی کہ خدا کا غضب بندہ کی حالت کا ایک عکس ہے جب انسان کسی مخالفانہ شر سے محجوب ہو جائے اور خدا سے دوسری طرف مونہہ پھیر لے تو کیا وہ اس لائق رہ سکتا ہے کہ جو بچے محبتوں اور صادقوں پر فیضان رحمت ہوتا ہے اس پر بھی وہی فیضان ہو جائے ؟ ہر گز نہیں بلکہ خدا کا قانونِ قدیم جو ابتدا سے چلا آیا ہے جس کو ہمیشہ راست باز اور صادق آدمی تجربہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی صحیح تجارب سے اس کی سچائیوں کو مشاہدہ کرتے ہیں وہ یہی قانون ہے کہ جو شخص ظلماتی حجابوں سے نکل کر سیدھا خدائے تعالی کی طرف اپنے روح کا مونہہ پھیر کر اس کے آستانہ پر گر پڑتا ہے اس پر فیضان رحمت خاصہ ایزدی کا ہوتا ہے اور جو شخص اس طریق کے برخلاف کوئی دوسرا طریق اختیار کر لیتا ہے تو بالضرور جوامر رحمت کے برخلاف ہے یعنی غضب الہی اُس پر وارد ہو جاتا ہے اور غضب کی اصل حقیقت یہی ہے کہ جب ایک شخص اس طریق مستقیم کو چھوڑ دیتا ہے کہ جو قانونِ الہی میں افاضہء رحمت الہی کا طریق ہے تو فیضانِ رحمت سے محروم رہ جاتا ہے۔اس محرومی کی حالت کا نام غضب الہی ہے اور چونکہ انسان کی زندگی اور آرام اور راحت خدا کے فیض سے ہی ہے۔اس جہت سے جو لوگ فیضانِ رحمت کے طریق کو چھوڑ دیتے ہیں وہ خدا کی طرف سے اسی جہان میں یا دوسرے جہان میں طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ جس کے شامل حال رحمت الہی نہیں ہے ضرور ہے کہ انواع اقسام کے عذاب روحانی و بدنی اس کی طرف مونہہ کریں اور چونکہ خدا کے قانون میں یہی انتظام مقرر ہے کہ رحمتِ خاصہ انہیں کے شامل حال ہوتی ہے کہ جو