تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 318
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۸ سورة الفاتحة اشارہ فرمایا اور کہا وَلَا الضَّالين۔غرض ما حصل اور خلاصہ ان تینوں صداقتوں کا یہ ہے کہ جیسے انسان کی خدا کے ساتھ تین حالتیں ہیں ایسا ہی خدا بھی ہر یک حالت کے موافق ان کے ساتھ جُدا جُدا معاملہ کرتا ہے۔جو لوگ اُس پر راضی ہوتے ہیں اور دلی محبت اور صدق سے اس کے خواہاں ہو جاتے ہیں خدا بھی ان پر راضی ہو جاتا ہے اور اپنی رضامندی کے انوار ان پر نازل کرتا ہے۔اور جو لوگ اُس سے مونہہ پھیر لیتے ہیں اور عمداً مخالفت اختیار کرتے ہیں۔خدا بھی مخالف کی طرح ان سے معاملہ کرتا ہے اور جو لوگ اس کی طلب میں سستی اور لا پروائی کرتے ہیں خدا بھی ان سے لا پروائی کرتا ہے اور ان کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے غرض جس طرح آئینہ میں انسان کو وہی شکل نظر آتی ہے کہ جو حقیقت میں شکل رکھتا ہے اسی طرح حضرت احدیت کہ جو ہر یک کدورت سے مصفی اور پاک ہے محبت والوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے غضب والوں پر غضب ناک ہے، لا پرواہوں کے ساتھ لا پرواہی ،رُکنے والوں سے رک جاتا ہے اور جھکنے والوں کی طرف جھکتا ہے۔چاہنے والوں کو چاہتا ہے اور نفرت کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے اور جس طرح آئینہ کے سامنے جو انداز اپنا بناؤ گے وہی انداز آئینہ میں بھی نظر آئے گا۔ایسا ہی خداوند تعالیٰ کے روبرو جس انداز سے کوئی چلتا ہے وہی انداز خدا کی طرف سے اس کے لئے موجود ہے۔اور جن لباسوں کو بندہ اپنے لئے آپ اختیار کر لیتا ہے وہی تخم بو یا ہوا اس کا اس کو دیا جاتا ہے۔جب انسان ہر یک طرح کے حجابوں اور کدورتوں اور آلائشوں سے اپنے دل کو پاک کر لیتا ہے اور محسن سینہ اس کے کا مواد ر ڈ یہ ماسوائے اللہ سے بالکل خالی ہو جاتا ہے۔تو اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے کوئی اپنے مکان کا دروازہ جو آفتاب کی طرف ہے کھول دیتا ہے اور سورج کی کرنیں اس کے گھر کے اندر چلی آتی ہیں۔لیکن جب بندہ ناراستی اور دروغ اور طرح طرح کی آلائشوں کو آپ اختیار کر لیتا ہے اور خدا کو حقیر چیز کی طرح خیال کر کے چھوڑ دیتا ہے تو اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے کوئی روشنی کو نا پسند کر کے اور اس سے بغض رکھ کر اپنے گھر کے تمام دروازے بند کر دے تا ایسا نہ ہو کہ کسی طرف سے آفتاب کی شعاعیں اس کے گھر کے اندر آجائیں۔اور جب انسان بباعث جذبات نفسانی یا ننگ و ناموس یا تقلید قوم وغیرہ طرح طرح کی غلطیوں اور آلائشوں میں گرفتار ہو اور سستی اور تکاسل اور لاپروائی سے ان آلائشوں سے پاک ہونے کے لئے کچھ سعی اور کوشش نہ کرے تو اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے کوئی اپنے گھر کے دروازوں کو بند پاوے اور تمام گھر میں اندھیرا بھرا ہوا دیکھے اور پھر اُٹھ کر دروازوں کو نہ کھولے اور ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھا ر ہے اور دل میں یہ کہے کہ