تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 320
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۰ سورة الفاتحة رحمت کے طریق کو یعنی دُعا اور توحید کو اختیار کرتے ہیں۔اس باعث سے جولوگ اس طریق کو چھوڑ دیتے ہیں وہ طرح طرح کی آفات میں گرفتار ہو جاتے ہیں اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ (آل عمران : ۹۸) یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگر تم دُعا نہ کرو اور اس کے فیضان کے خواہاں نہ ہو خدا کو تو کسی کی زندگی اور وجود کی حاجت نہیں وہ تو بے نیاز مطلق ہے۔اور آریہ سماج والے اور عیسائی بھی ان تینوں صداقتوں میں سے پہلی اور تیسری صداقت سے بے خبر ہیں۔کوئی اُن میں سے یہ اعتراض کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ سب لوگوں کو کیوں ہدایت نہیں دیتا۔اور کوئی یہ اعتراض کر رہا ہے کہ خدا میں صفت اضلال کیونکر پائی جاتی ہے۔جولوگ خدائے تعالیٰ کی ہدایت کی نسبت معترض ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہدایت الہی انہیں کے شامل حال ہوتی ہے کہ جو ہدایت پانے کے لئے کوشش کرتے ہیں اور ان راہوں پر چلتے ہیں جن راہوں پر چلنا فیضانِ رحمت کے لئے ضروری ہے اور جولوگ اضلالِ الہی کی نسبت معترض ہیں اُن کو یہ خیال نہیں آتا کہ خدائے تعالیٰ اپنے قواعد مقررہ کے ساتھ ہر یک انسان سے مناسب حال معاملہ کرتا ہے اور جو شخص سستی اور تکاسل سے اس کے لئے کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے ایسے لوگوں کے بارہ میں قدیم سے اس کا یہی قاعدہ مقرر ہے کہ وہ اپنی تائید سے ان کو محروم رکھتا ہے اور انہیں کو اپنی راہیں دکھلاتا ہے جو ان راہوں کے لئے بدل و جان سعی کرتے ہیں۔بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ جو شخص نہایت لا پروائی سے مستی کر رہا ہے وہ ایسا ہی خدا کے فیض سے مستفیض ہو جائے جیسے وہ شخص کہ جو تمام عقل اور تمام زور اور تمام اخلاص سے اس کو ڈھونڈتا ہے۔اس کی طرف ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا (العنکبوت :۷۰) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ان کو بالضرور اپنی راہیں دکھلا دیا کرتے ہیں۔اب دیکھنا چاہیئے کہ یہ دس صداقتیں جو سورہ فاتحہ میں درج ہیں کس قدر عالی اور بے نظیر صداقتیں ہیں جن کے دریافت کرنے سے ہمارے تمام مخالفین قاصر رہے اور پھر دیکھنا چاہئے کہ کس ایجاز اور لطافت سے اقل قلیل عبارت میں ان کو خدائے تعالیٰ نے بھر دیا ہے اور پھر اس طرف خیال کرنا چاہئے کہ علاوہ ان سچائیوں کے اور اس کمال ایجاز کے دوسرے کیا کیا لطائف ہیں جو اس سورہ مبارکہ میں بھرے ہوئے ہیں اگر ہم اس جگہ ان سب لطائف کو بیان کریں تو یہ مضمون ایک دفتر بن جائے گا۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۴۵ تا ۵۶۸ حاشیہ نمبر ۱۱) کیونکہ تذلل اور انکساری کی زندگی کوئی اختیار نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالی اس کی مدد نہ کرے۔وو