تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 299
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۹ سورة الفاتحة الْأَوَّلِينَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ الْمُنْعَمِينَ | مقتربان ( بارگاہ الوہیت ) کے وارث بن جائیں۔ وَمَعَ ذَلِكَ قَدْ جَرَتْ سُنَّةُ اللهِ أَنَّهُ اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جب إِذَا أَعْطَى عَبْدًا كَمَالًا وَطَفِقَ الْجُهَّالُ وہ اپنے کسی بندہ کو کوئی کمال عطا کرتا ہے اور جاہل لوگ اپنی يَعْبُدُونَهُ ضَلَالًا وَ يُشْرِكُونَهُ بِالرَّبِ گمراہی کی وجہ سے اس کی عبادت کرنے لگ جاتے ہیں اور الْكَرِيمِ عِزَّةً وَ جَلَالًا بَلْ يَحْسَبُونَهُ اُسے عزت و جلال میں رب کریم کا شریک قرار دے دیتے رَبَّا فَعَالًا فَيَخْلُقُ اللهُ مِثْلَهُ وَيُسَيِّيْهِ ہیں بلکہ اُسے ربّ فعّال خیال کرنے لگ جاتے ہیں تو اللہ بِتَسْمِيَتِهِ وَيَضَعُ كَمَالَاتِه فِي فِطْرَته تعالی اس کا کوئی مثیل پیدا کر دیتا ہے اور اُس کا وہی نام رکھ وَكَذَلِكَ يَجْعَلُ لِغَيْرَتِهِ لِيُبْطِلَ مَا دیتا ہے اور اُس کے کمالات بھی اُس (مثیل ) کی فطرت میں خَطَرَ فِي قُلُوبِ الْمُشْرِكِينَ يَفْعَلُ مَا رکھ دیتا ہے اور وہ اپنی غیرت کی بنا پر ایسا کرتا ہے تا مشرکوں يَشَاءُ وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ مِّن کے دلوں میں جو خیالات پیدا ہوئے انہیں غلط ثابت الْمَسْؤُولِينَ يَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ كَالدر کر دے ۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو وہ کرتا ہے اُس کے السَّائِعِ لِلْاِغْتِذَاءِ أَوْ كَالدُّرَّةِ متعلق وہ جواب دہ نہیں ہوتا حالانکہ دوسرے لوگ جواب دہ الْبَيْضَاءِ فِي اللَّمَعَانِ وَ الصَّفَاءِ ہوتے ہیں ۔ وہ جس کو چاہتا ہے غذا کے لئے خوشگوار دودھ کی وَيَسُوقُ إِلَيْهِ شِرْبًا مِنَ التَّسْنِيمِ مانند بنا دیتا ہے اور جسے چاہے چمک اور صفائی میں روشن وَيُضَيِّخُهُ بِالطَّيبِ الْعَمِيمِ حَتَّی موتی کی طرح بنا دیتا ہے اور اُس تک تسنیم کا پانی پہنچا دیتا يُسْفِرَ عَنْ مَرْأَى وَسِيْمٍ وَأَرَجِ ہے ۔ اُسے عطر میم کی خوشبو سے ممسوح کر دیتا ہے یہاں تک نَسِيمٍ لِلنَّاظِرِينَ فَالْحَاصِلُ أَنَّهُ کہ دیکھنے والوں کے لئے اُس کے خوبصورت چہرہ اور خوشبو تَعَالَى أَشَارَ فِي هَذَا الدُّعَاءِ لِطَلَّابِ سے پردہ اُٹھا دیتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الرَّشَادِ إِلَى رَحْمَتِهِ الْعَامَّةِ وَالْوَدَادِ اِس دُعا میں طالبانِ ہدایت کے لئے اپنی عام رحمت اور محبت فَكَأَنَّهُ قَالَ إِنَّنِي رَحِيمٌ وَسِعَتْ کی طرف اشارہ فرمایا ہے گویا کہ اس نے یوں کہا ہے کہ میں رَحْمَتِي كُلَّ شَيْءٍ أَجْعَلُ بَعْضَ الْعِبَادِ رحیم ہوں اور میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ میں وَارِنَا لِبَعْضٍ مِنَ التَّفَضْلِ وَ الْعَطَاءِ بعض بندوں کا بعض کو از راہ فضل و عطا وارث بنا تا ہوں تا کہ لِأَسُدَّ بَابَ الشَّرْكِ الَّذِي يَشِيعُ مِنْ مَیں اُس شرک کا دروازہ بند کر دوں جو بعض برگزیدوں کے