تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 300
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة تخصيص الكَمَالَاتِ بِبَعْضِ أَفَرَادٍ من ساتھ بعض کمالات کے مخصوص کئے جانے کی وجہ سے الْأَصْفِياءِ۔فَهَذَا هُوَ سِر هَذَا الدُّعَاءِ پھیل سکتا ہے۔پس یہ ہے راز اُس دُعا کا۔گویا کہ اللہ كَأَنَّهُ يُبَرُ النَّاسَ بِفَيْضٍ عَامٍ وَ عَطَاءٍ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک عام فیض اور ہمہ گیر بخشش کی شامِلٍ لأَنامِ وَ يَقُولُ إِنِّي فَيَاضٌ وَ رَبُّ بشارت دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں فیاض ہوں اور الْعَالَمِينَ وَ لَسْتُ كَبَخِيْلٍ وَ ضَنِينٍ۔پروردگار عالم ہوں اور میں بخیل اور کنجوس نہیں ہوں۔پس فَاذْكُرُوا بَيْتَ فَيْضِی وَ مَا ثَمَّ فَإِنَّ تم میرے فیض کے گھر کو اور جو کچھ وہاں ہے یا دکر و کیونکہ فَيْطِن قَدْ عَةً وَتَمَّ وَإِنَّ صِرَاطِی صِرَاط میرا فیض عام بھی ہے اور مفید بھی۔اور میرا راستہ وہ راستہ قَدْ سُوّى وَ مُدَّ لِكُلِّ مَنْ نَهَضَ وَاخْتَدَّ ہے جو ہموار اور کشادہ کیا گیا ہے ہر اُس شخص کے لئے جو وَاسْتَعَدَّ وَ طَلَبَ كَالْمُجَاهِدِينَ وَهَذِهِ اُٹھے، توجہ کرے اور تیار ہو جائے اور مجاہدوں کی طرح نُكْتَةٌ عَظِيمَةٌ فِي ايَةِ اهْدِنَا القيراط تلاش کرنے لگے۔آیت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں یہی عظیم نکتہ ہے یعنی شرک کا عَلَيْهِمْ وَهِيَ إزالة الشركِ وَسَدُّ أَبوابه ازالہ اور اُس کے دروازوں کو بند کرنا۔پس سلامتی ہو اُن فَالسَّلَامُ عَلى قَوْمٍ اسْتَخْلَصُوا مِنْ هَذَا لوگوں پر جو اس شرک سے خلاصی پاگئے اور اُن پر بھی جو الشركِ وَعَلَى مَنْ لَّدَيْهِمْ وَعَلَى كُلِّ مَنْ اُن کے ساتھی ہیں اور اُن پر بھی جو طالبوں اور صادقوں تَبِعَهُمْ مِنَ الظَّالِبينَ الصَّادِقِينَ | میں سے ان کے متبع بن گئے ہیں۔( ترجمہ از مرتب ) - کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۳۱ تا ۱۳۳) سورہ فاتحہ میں۔۔۔۔مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دُعا میں مشغول رہیں بلکہ دُعا اهْدِنَا الصِّرَاط المُسْتَقِيمَ سکھلائی گئی ہے اور فرض کیا گیا ہے کہ پنج وقت یہ دُعا کریں پھر کس قدر غلطی ہے کہ کوئی شخص دُعا کی رُوحانیت سے انکار کرے۔قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دُعا اپنے اندر ایک رُوحانیت رکھتی ہے اور دُعا سے ایک فیض نازل ہوتا ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں کامیابی کا ثمرہ بخشتا ہے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۵۹) یہ دُعا نوع انسان کی عام ہمدردی کے لئے ہے۔کیونکہ دُعا کرنے میں تمام نوع انسان کو شامل کر لیا ہے اور سب کے لئے دُعا مانگی ہے کہ خدا دنیا کے دکھوں سے انہیں بچاوے اور آخرت کے ٹوٹے سے محفوظ رکھے