تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 298
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۸ سورة الفاتحة 66 فَنَحْنُ نَدْعُو بِتَعْلِيمِهِ وَ نَطْلُبُ مِنْهُ | پس ہم اُس کے سکھانے کے مطابق دُعا مانگتے ہیں اور اس بِتَفْهِيْمِهِ فَرِحِيْنَ بِرفْدِهِ مُفْصِحِین کے سمجھانے کے مطابق اُس سے طلب کرتے ہیں۔اس حَمْدِهِ قَائِلِينَ: " اهْدِنَا الخراط حالت میں کہ ہم اُس کے انعام پر بہت خوش ہیں اور اُس کی الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ حمد بیان کرتے ہوئے ان الفاظ میں دُعا کرتے ہیں اهْدِنَا عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ الضَّانِيْنَ " وَنَحْنُ نَسْأَلُ اللهَ لَنَا فِي هَذَا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اور ہم اس دُعا الدُّعَاءِ كُلّ مَا أُعْطِيَ لِلْأَنْبِيَاءِ مِن میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے وہ تمام نعمتیں مانگتے ہیں جو نبیوں کو النّعْمَاءِ وَنَسْأَلُه أَن تَعْبُتَ كَالأَنْبِيَاءِ دی گئی تھیں اور اُس سے ہم یہ بھی مانگتے ہیں کہ ہم نبیوں کی طرح عَلَى القِرَاطِ وَنَتَجافى عَنِ الْاشْتِطَاطِ صراط مستقیم پر ثابت قدم رہیں اور اس راہ سے دُور نہ ہوں اور وَنَدْخُلَ مَعَهُمْ في مَربع حَظِيرَةِ ہر قسم کی ناپاکی اور پلیدی سے پاک ہو کر اور پروردگار عالم کی الْقُدْسِ مُتَطَهِّرِينَ مِن كُلّ أَنْوَاع بارگاہ کی طرف جلدی کرتے ہوئے ان ( نبیوں) کے ساتھ الرَّجْسِ وَ مُبَادِرِينَ إلى نَدى ربّ ہی حظيرة القدس کی منزل میں داخل ہو جائیں۔پس یہ بات الْعَالَمِينَ۔فَلَا يخفى أَنَّ اللهَ جَعَلنا في مخفی نہیں کہ اللہ تعالی نے اس دُعا میں ہمیں نبیوں کے اظلال هذَا الدُّعَاءِ كَأَظلالِ الْأَنْبِيَاءِ وَ قرار دیا ہے اور ہمیں تمام ظاہر اور مخفی اور بندھی ہوئی اور مہر کی أَوْرَثَنَا وَأَعْطَانَا الْمَعْلُومَ وَ الْمَكْتُومَ ہوئی غرض ہر قسم کی برکتیں اور نعمتیں عطا کی ہیں جن میں سے وَ الْمَعُكُومَ وَ الْمَخْتُومَ وَ مِنْ كُلِ ہم نے اپنے مقدور بھر اُٹھالی ہیں اور اتنی لے آئے ہیں جو الْآلَاءِ وَالنَّعْمَاءِ فَاحْتَمَلُنَا مِنْهَا وقُرَنَا ہماری احتیاج کو دُور کر سکیں اور وادیاں (اپنی ) اپنی گنجائش و رَجَعْنَا مَا يَسُدُّ فَفَرَنَا وَ سَالَتْ کے مطابق نکلیں ( یعنی جتنے انعام کسی کے ظرف میں سما سکتے أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَأُخْلِلْنَا فَحَل تھے وہ اُسے مل گئے ) پس ہم کامیاب و کامران لوگوں کے الْفَايْرِينَ وَهَذَا هُوَ متر ارسال مقام اور مرتبہ پر اُتارے گئے۔نبیوں کے بھیجنے اور رسولوں الْأَنْبِيَاءِ وَ بَعْدِ الْمُرْسَلِينَ وَ اور برگزیدہ لوگوں کی بعثت کا یہی راز ہے کہ ہم اُن بزرگ الْأَصْفِيَاءِ لِتُصَبَّعَ بِصِبْعُ الْكِرَامِ وَ لوگوں کے رنگ میں رنگین ہو جائیں اور اُن کے ساتھ اتحاد کی نَنْتَظِمَ فِي سِلْكِ الْإِلْتِيَامِ وَ نَرِثَ لڑی میں پروئے جائیں اور پہلے انعام یافتہ لوگوں اور