تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 275

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۵ سورة الفاتحة اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سو انسان کو چاہئے کہ اس کو مد نظر رکھ کر نماز میں بالحاح دُعا کرے اور تمنا رکھے کہ وہ بھی اُن لوگوں میں سے ہو جاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کر چکے ہیں ایسا نہ ہو کہ اس جہان سے بے بصیرت اور اندھا اُٹھا یا جاوے چنانچہ فرمایا۔مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى ( بنی اسرائیل : ۷۳ ) کہ جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اُس جہان میں بھی اندھا ہے۔جس کی منشاء یہ ہے کہ اُس جہان کے مشاہدہ کے لئے اسی جہان سے ہم کو آنکھیں لے جانی ہیں۔آئندہ جہان کو محسوس کرنے کے لئے حواس کی تیاری اسی جہان میں ہوگی۔پس کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کرے اور پورا نہ کرے؟ اندھے سے مراد وہ ہے جو روحانی معارف اور روحانی لذات سے خالی ہے۔ایک شخص کو رانہ تقلید سے کہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہو گیا ہو مسلمان کہلاتا ہے۔دوسری طرف اسی طرح ایک عیسائی عیسائیوں کے ہاں پیدا ہو کر عیسائی ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ ایسے شخص کو خدا رسول اور قرآن کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔اُس کی ا دین سے محبت بھی قابل اعتراض ہے۔خدا اور رسول کی ہتک کرنے والوں میں اُس کا گزر ہوتا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایسے شخص کی روحانی آنکھ نہیں۔اُس میں محبت دین نہیں۔والا محبت والا اپنے محبوب کے برخلاف کیا کچھ پسند کرتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے سکھلایا ہے کہ میں تو دینے کو تیار ہوں اگر تو لینے کو تیار ہے۔پس یہ دُعا کرنا ہی اُس ہدایت کو لینے کی تیاری ہے اس دُعا کے بعد سورہ بقرہ کے شروع میں ہی جو ھدی للْمُتَّقِينَ کہا گیا۔تو گویا خدا تعالیٰ نے دینے کی تیاری کی۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۹،۳۸) اگر نبی کے صرف یہ معنے کئے جائیں کہ اللہ جل شانہ اس سے مکالمہ و مخاطبہ رکھتا ہے اور بعض اسرار غیب کے اُس پر ظاہر کرتا ہے تو اگر ایک امتی ایسا نبی ہو جائے تو اس میں حرج کیا ہے خصوصاً جب کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ یہ اُمید دلائی ہے کہ ایک امتی شرف مکالمہ الہیہ سے مشرف ہوسکتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنے اولیاء سے مکالمات اور مخاطبات ہوتے ہیں بلکہ اس نعمت کے حاصل کرنے کے لئے سورہ فاتحہ میں جو پنج وقت فریضہ نماز میں پڑھی جاتی ہے یہی دعا سکھلائی گئی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو کسی امتی کو اس نعمت کے حاصل ہونے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے۔کیا سورۃ فاتحہ میں وہ نعمت جو خدا تعالی سے مانگی گئی ہے جو نبیوں کو دی گئی تھی وہ درہم و دینار ہیں۔ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کی نعمت ملی تھی جس کے ذریعہ سے اُن کی معرفت حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ گئی تھی سدو