تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 274

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۴ سورة الفاتحة یادر ہے کہ ضرور ان انعامات میں جو نبیوں کو دیئے گئے اس اُمت کے لئے حصہ رکھا گیا ہے کیونکہ اگر مسلمانوں کے کامل افراد کی فطرتوں میں یہ حصہ نہ ہوتا تو ان کے دلوں میں یہ خواہش نہ پائی جاتی کہ وہ خدا شناسی کے درجہ میں حق الیقین کے درجہ تک پہنچ جائیں اور ان انعامات سے سب سے بڑھ کر یقینی مخاطبات اور مکالمات کا انعام ہے جس سے انسان اپنی خداشناسی میں پوری ترقی کرتا ہے گویا ایک طور سے خدا تعالی کو دیکھ لیتا ہے اور اس کی ہستی پر رؤیت کے رنگ میں ایمان لاتا ہے۔( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۸۸،۴۸۷) سورہ فاتحہ میں جو قرآن کے شروع میں ہی ہے اللہ تعالیٰ مومن کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ دُعا مانگیں۔اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ یعنی ہمیں وہ راہ سیدھی بتلا اُن لوگوں کی جن پر تیرا انعام و فضل ہے۔یہ اس لئے سکھائی گئی ہے کہ انسان عالی ہمت ہو کر اس سے خالق کا منشاء سمجھے اور وہ یہ ہے کہ یہ اُمت بہائم کی طرح زندگی بسر نہ کرے بلکہ اس کے تمام پردے کھل جاویں۔جیسے کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ولایت بارہ اماموں کے بعد ختم ہوگئی۔برخلاف اس کے اس دُعا سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے پہلے سے ارادہ کر رکھا ہے کہ جو متقی ہو اور خدا کی منشاء کے مطابق ہے تو وہ اُن مراتب کو حاصل کر سکے جو انبیاء اور اصفیاء کو حاصل ہوتے ہیں۔اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انسان کو بہت سے قومی ملے ہیں جنہوں نے نشو نما پانا ہے اور بہت ترقی کرنا ہے۔ہاں ایک بکرا چونکہ انسان نہیں اُس کے قومی ترقی نہیں کر سکتے۔عالی ہمت انسان جب رسولوں اور انبیاء کے حالات سنتا ہے تو چاہتا ہے کہ وہ انعامات جو اس پاک جماعت کو حاصل ہوئے۔اُس پر نہ صرف ایمان ہی ہو بلکہ اُسے بہ تدریج اُن نعماء کا علم الیقین ،عین الیقین اور حق الیقین ہو جاوے۔علم کے تین مدارج ہیں۔علم الیقین۔عین الیقین حق الیقین۔مثلاً ایک جگہ سے دھواں نکلتا دیکھ کر آگ کا یقین کر لینا علم الیقین ہے۔لیکن خود آنکھ سے آگ کا دیکھنا عین الیقین ہے۔ان سے بڑھ کر درجہ حق الیقین کا ہے یعنی آگ میں ہاتھ ڈال کر جلن اور حرقت سے یقین کر لینا کہ آگ موجود ہے۔پس کیسا وہ شخص بدقسمت ہے۔جس کو تینوں میں سے کوئی درجہ حاصل نہیں۔اس آیت کے مطابق جس پر اللہ کا فضل نہیں وہ کورانہ تقلید میں پھنسا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنكبوت : ٧٠) جو ہمارے راہ میں مجاہدہ کرے گا ہم اُس کو اپنی راہیں دکھلا دیں گے۔یہ تو وعدہ ہے اور ادھر یہ دُعا ہے کہ وو