تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 276

سورة الفاتحة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور گفتار کی تجلی دیدار کے قائم مقام ہو گئی تھی۔پس یہ جو دعا کی جاتی ہے کہ اے خداوند وہ راہ ہمیں دکھا جس سے ہم بھی اُس نعمت کے وارث ہو جائیں اس کے بجز اس کے اور کیا معنے ہیں کہ ہمیں بھی شرف مکالمہ اور مخاطبه بخش بعض جاہل اس جگہ کہتے ہیں کہ اس دُعا کے صرف یہ معنے ہیں کہ ہمارے ایمان قومی کر اور اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما اور وہ کام ہم سے کرا جس سے تو راضی ہو جائے۔مگر یہ نادان نہیں جانتے کہ ایمان کا قومی ہونا یا اعمال صالحہ کا بجالانا اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق قدم اٹھانا یہ تمام باتیں معرفتِ کاملہ کا نتیجہ ہیں۔جس دل کو خدا تعالیٰ کی معرفت میں سے کچھ حصہ نہیں ملا وہ دل ایمان قومی اور اعمال صالحہ سے بھی بے نصیب ہے۔معرفت سے ہی خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے۔اور معرفت سے ہی خدا تعالیٰ کی محبت دل میں جوش مارتی ہے۔۔۔۔۔۔اب چونکہ تمام مدار خوف اور محبت کا معرفت پر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف بھی پورے طور پر اس وقت انسان جھک سکتا ہے جب کہ اس کی معرفت ہو۔اوّل اُس کے وجود کا پتہ لگے اور پھر اُس کی خوبیاں اور اُس کی کامل قدرتیں ظاہر ہوں اور اس قسم کی معرفت کب میسر آ سکتی ہے بجز اس کے کہ کسی کو خدا تعالیٰ کا شرف مکالمہ اور مخاطبہ حاصل ہو اور پھر اعلام الہی سے اس بات پر یقین آ جائے کہ وہ عالم الغیب ہے اور ایسا قادر ہے کہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔سو اصلی نعمت ( جس پر قوت ایمان اور اعمالِ صالحہ موقوف ہیں ) خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کے ذریعہ سے اول اُس کا پتہ لگتا ہے اور پھر اُس کی قدرتوں سے اطلاع ملتی ہے اور پھر اس اطلاع کے موافق انسان ان قدرتوں کو چشم خود دیکھ لیتا ہے۔یہی وہ نعمت ہے جو انبیاء علیہم السلام کو دی گئی تھی اور پھر اس اُمت کو حکم ہوا کہ اس نعمت کو تم مجھ سے مانگو کہ میں تمہیں بھی دوں گا۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ یہی تو ایک جڑ ہے معرفت کی اور تمام برکات کا سر چشمہ ہے اگر اس امت پر یہ دروازہ بند ہوتا تو سعادت کے تمام دروازے بند ہوتے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم جلد ۲۱ صفحه ۳۰۷ تا ۳۰۹) یہ ضرور یا درکھو کہ اس اُمت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ( الجن : ۲۸۰۲۷ ) سے ظاہر ہے پس مصفی غیب