تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 5
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ إِلى مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ | الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی عزت اور عظمت کو ظاہر فرمایا ہے۔ثُمَّ أَظْهَرَ ذِلَّةَ الْعَبْدِ وَهَوَانَهُ وَضُعُفَهُ پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر بندہ کے بِقَوْلِهِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ومن عجز اور کمزوری کو ظاہر کیا ہے۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس الْمُمْكِن أَن يَكُونَ تَسْمِيَةُ هَذِهِ السُّورَةِ بِه سورة كو ألم الکتاب اس امر کے پیش نظر کہا گیا ہو کہ اس نَظَرًا إلى ضُرُورَاتِ الْفِطْرَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ وَ میں انسانی فطرت کی سب ضرورتیں مدنظر ہیں اور انسانی إِشَارَةً إِلَى مَا تَقْتَضِي الطَّبَائِعُ بِالْكَسْبِ أَو طبائع کے سب تقاضوں کی طرف اشارہ ہے خواہ وہ کسب الْجَوَاذِبِ الْإِلَهِيَّةِ فَإِنَّ الْإِنْسَانَ يُحِبُّ سے متعلق ہوں یا افضال الہیہ سے۔کیونکہ انسان اپنے لِتَكْمِيْلِ نَفْسِهِ أَنْ تَحْصُلَ لَهُ عِلْمُ ذَاتِ نفس کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اللهِ وَصِفَاتِهِ وَأَفْعَالِهِ وَيُحِبُّ أَن تحصل له افعال کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور یہ بھی چاہتا ہے کہ عِلْمُ مَرْضَاتِهِ بِوَسِيلَةِ أَحْكامِهِ التى اسے اس کے ان احکام کے وسیلہ سے اس کی خوشنودی تَنكَشِفُ حَقِيقَتُهَا بِأَقْوَالِهِ وَ كَذَالِكَ کا علم ہو جائے ، جن کی حقیقت اس کے اقوال سے ہی تَقْتَدِن رُوحَانِيَّتُهُ أَنْ تَأْخُذَ بِيَدِهِ الْعِنَايَةُ کھلتی ہے اور ایسا ہی اس کی روحانیت چاہتی ہے کہ الرَّبَّانِيَّةُ۔وَ يَحْصُلَ بِإِعَانِتِهِ صَفَاءُ الْبَاطِنِ عنایت ربانی اس کی دستگیری کرے اور اس کی مدد سے وَالْأَنْوَارُ وَالْمُكَاشَفَاتُ الْإِلَهِيَّةِ وَ هَذِهِ اسے صفاء باطن اور انوار و مکاشفات الہیہ حاصل ہوں السُّورَةُ الكَرِيمَةُ مُلَهُ عَلى هذه اور یہ سورہ کریمہ ان سب مطالب پر مشتمل ہے بلکہ یہ الْمَطالِب بَلْ وَقَعَتْ بِحُسْنِ بَيَانِهَا وَقُوَّةِ سورة اپنے حسن بیان اور قوت تبیان سے دلوں کو موہ تبْيَانِهَا كَالْجَالِب۔عجاز امسح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۷۵ تا۷۷ ) لینے والی ہے۔(ترجمہ از مرتب ) سورۃ فاتحہ کا پانچواں نام السبع المثانی وَمِنْ أَسْمَاءِ هَذِهِ السُّورَةِ السَّبْعُ اس سورۃ کے ناموں میں سے ایک نام سبع مثانی ہے الْمَثَانِي وَسَبَبُ التَّسْمِيَةِ أَنَّهَا مُثلى اور اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس سورۃ کے دوحصے نِصْفُهَا شَنَآءُ الْعَبْدِ لِلرَّبِ وَنِصْفُهَا عَطَاءُ ہیں، اس کا ایک حصہ بندہ کی طرف سے خدا کی ثناء اور الرَّبِ لِلْعَبْدِ الْفَانِي۔وَ قِيْلَ إِنَّهَا سُميت | دوسرا نصف فانی انسان کے لئے خدا تعالیٰ کی عطا اور