تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 5

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ إِلى مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ | الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی عزت اور عظمت کو ظاہر فرمایا ہے۔ ثُمَّ أَظْهَرَ ذِلَّةَ الْعَبْدِ وَهَوَانَهُ وَ ضُعْفَهُ پھر إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر بندہ کے بِقَوْلِهِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ وَمِن عجز اور کمزوری کو ظاہر کیا ہے۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس الْمُمْكِن أَنْ يَكُونَ تَسْمِيَةُ هَذِهِ السُّورَةِ بِهِ - سورة كو ام الکتاب اس امر کے پیش نظر کہا گیا ہو کہ اس نَظَرًا إِلَى ضُرُورَاتِ الْفِطْرَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ وَ میں انسانی فطرت کی سب ضرورتیں مد نظر ہیں اور انسانی إِشَارَةً إِلى مَا تَقْتَضِي الطَّبَائِعُ بِالْكَسْبِ أَوِ طبائع کے سب تقاضوں کی طرف اشارہ ہے خواہ وہ کسب الْجَوَاذِبِ الْإِلَهِيَّةِ فَإِنَّ الْإِنْسَانَ يُحِبُّ سے متعلق ہوں یا افضال الہیہ سے۔ کیونکہ انسان اپنے لِتَكْمِيلِ نَفْسِهِ أَنْ تَحْصُلَ لَهُ عِلْمُ ذَاتِ نفس کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اللهِ وَصِفَاتِهِ وَ أَفْعَالِهِ وَيُحِبُّ أَنْ تَحْصُلَ لَهُ افعال کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ بھی چاہتا ہے کہ عِلْمُ مَرْضَاتِهِ بِوَسِيلَةِ أَحْكَامِهِ الَّتِی اسے اس کے ان احکام کے وسیلہ سے اس کی خوشنودی تَنْكَشِفُ حَقِيقَتُهَا بِأَقْوَالِهِ وَ كَذَالِكَ کا علم ہو جائے ، جن کی حقیقت اس کے اقوال سے ہی تَقْتَصِي رُوْحَانِيَّتُهُ أَنْ تَأْخُذَ بِيَدِهِ الْعِنَايَةُ کھلتی ہے اور ایسا ہی اس کی روحانیت چاہتی ہے کہ الرَّيَّانِيَّةُ وَيَحْصَلَ بِإِعَانِتِهِ صَفَاءُ الْبَاطِنِ عنایت ربانی اس کی دستگیری کرے اور اس کی مدد سے وَالْأَنْوَارُ وَالْمُكَاشَفَاتُ الْإِلَهِيَّةِ وَ هَذِهِ اس صفاء باطن اور انوار و مکاشفات الہیہ حاصل ہوں السُّورَةُ الكَرِيمَةُ مُشْتَمِلَةٌ عَلى هَذِهِ اور یہ سورہ کریمہ ان سب مطالب پر مشتمل ہے بلکہ یہ الْمَطَالِبِ بَلْ وَقَعَتْ بِحُسْنِ بَيَانِهَا وَ قُوَّةِ سورۃ اپنے حسنِ بیان اور قوت تبیان سے دلوں کو موہ تِبْيَانِهَا كَالْجَالِبِ۔ اعجاز المسیح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۷۵ تا ۷۷ ) لینے والی ہے۔ ( ترجمہ از مرتب ) سورة فاتحہ کا پانچواں نام السبع المثانی وَمِنْ أَسْمَاءِ هَذِهِ السُّورَةِ السَّبْعُ اس سورۃ کے ناموں میں سے ایک نام سبع مثانی ہے الْمَثَانِي وَسَبَبُ التَّسْمِيَةِ أَنَّهَا مُثلى اور اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس سورۃ کے دو حصے نِصْفُهَا ثَنَاءُ الْعَبْدِ لِلرَّبِّ وَ نِصْفُهَا عَطَاءُ ہیں، اس کا ایک حصہ بندہ کی طرف سے خدا کی ثناء اور الرَّبِّ لِلْعَبْدِ الْفَانِي وَقِيلَ إِنَّهَا سُميت | دوسرا نصف فانی انسان کے لئے خدا تعالیٰ کی عطا اور