تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 237
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۷ سورة الفاتحة G جَذَبَاتِ النَّفْسِ كَمَقلِ الْحُمَّيَاتِ الْحَادَةِ | جس طرح ان بخاروں کے دوران ( مختلف قسم کے ) خوفناک فَكَمَا تَجِدُ عِنْدَ تِلْكَ الْحُمَّيَاتِ أَعْرَاضًا اور شدید عوارض پائے جاتے ہیں مثلاً تپ لرزہ۔سردی هَايِلَةً مُشْتَدَّةً مِّثْلَ النَّافِضِ وَ الْبَرْدِ کپکپاہٹ یا مثلاً بے انتہاء پسینہ، بہت زیادہ نکسیر، سخت وَالْفُشَعْرِيرَةِ وَ مِثْلَ الْعَرَقِ الكَثِير تے کمزور کر دینے والے اسہال، نا قابل برداشت پیاس، وَالرُّعَافِ الْمُفْرِطِ وَالْقَيْءِ الْعَدِيفِ یا مثلاً زیادہ نیند لگا تار بے خوابی ، زبان کا کھردرا پن ، منہ وَالْإِسْهَالِ الْمُضْعِفِ وَ الْعَطَشِ الَّذِئ لا سوکھنا یا مثلا لگا تار چھینکیں سخت سر درد، متواتر کھانسی ، بھوک يُطاقُ وَمِثْلَ السُّبَاتِ الكَثِيرِ وَالْأَرقِ کی بندش اور نیکی وغیرہ جو بخار کے مریضوں کی علامات ہیں اللَّازِمِ وَخُشُونَةِ اللّسَانِ وَفَحْل الْقَمِ وَ اس طرح نفس کے جذبات اور علامات ہیں جس کے مواد جوش مِثْلَ الْعُطَاسِ المُلح و الضُّدَاعِ الصَّعْب مارتے رہتے ہیں اور اس کی موجیں ٹھاٹھیں مارتی رہتی ہیں اس و السُّعَالِ الْمُتَوَاتِر و سُقُوطِ الشَّهْوَةِ وَ کے عوارض چکر لگاتے رہتے ہیں اس کی گائیں ڈکارتی رہتی الْفُوَاقِ وَ غَيْرِهَا مِن علامات ہیں اس کے قیدی ہلاک ہوتے رہتے ہیں اور بہت ہی کم لوگ الْمَحْمُوْمِينَ۔كَذلِك لِلنَّفْسِ جَذبات و ہیں جو اس نفس سے) بچے رہتے ہیں۔پس ہدایت کا طلب عَلَامَاتٌ مَّوَاذْهَا تَفُورُ وَأَمْوَاجُهَا تَمُورُ وَ کرنا کسی حاذق طبیب کی طرف رجوع کرنے اور اپنے آپ کو إعْرَاضُهَا تَدُورُ وَبَقَرَاتُهَا تَخُورُ وَ أَسِيرُهَا معالجوں کے سامنے ڈال دینے کی طرح ہے اور اپنے بندوں يَبُورُ وَ قَلْ مَنْ كَانَ مِنَ النَّاجِيْنِ فَطَلَب کے لئے جس انعام کی طرف اللہ تعالی نے اشارہ کیا ہے وہ الْهِدَايَةِ كَمِثْلِ الرُّجُوع إلى الطبيب بندے کا دنیا سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف پوری طرح جھک الْحَاذق و الاستخراج بَيْنَ يَدَيِ جانا محبت الہی میں سرگرم ہونا اور اس کی طرف سے ہمیشہ الْمُعَالِمِينَ وَ الْإِنْعَامُ الَّذِي أَشَارَ الله سعادت دیا جانا اور اپنی سعادت مندی کو ہمیشہ قائم رکھنا ہے إِلَيْهِ لِعِبَادِهِ هُوَ تَبَقُلُ الْعَبْدِ إِلى الله و اور اللہ تعالیٰ کا اس کی طرف اپنی برکات، الہامات اور قبولیت دعا إِحْمَاءُ وَدَادِهِ وَ دَوَاهُ إِسْعَادِهِ وَ رُجُوعُ الله سے رجوع کرنا اور اسے اپنے جلیل القدر لوگوں میں سے جلیل إِلَيْهِ بِبَرَكَاتِهِ وَ الْهَامَاتِهِ وَ اسْتِجَابَاتِه و القدر بنانا اور اسے اپنے زیر حفاظت بندوں میں داخل کر لینا جَعْلُه طَوْدًا مِنْ أَطْوَادِهِ وَ إِدْحَالُهُ في عِبَادِہ ہے۔اور (اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح) الْمَحْفُوظِيْنَ وَ قَوْلِهِ يَنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ * کا حکم جاری (الانبياء:۷۰) ترجمہ۔اے آگ تو ابراہیم کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی کا موجب بن جا۔