تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 238

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۸ سورة الفاتحة سَلمًا عَلَى إِبْراهِيمَ وَ جَعْلُهُ مِنَ | کرنا اور اسے اپنے پاک اور مقدس بندوں میں شامل کر لینا ہے۔الطَّيِّبِينَ الظَّاهِرِينَ فَهَذَا هُوَ الشفاء من حتی پس یہ اُس کے لئے گناہوں کے بخار سے شفاء اور موافق الْمَعَاصِي وَ الْعِلَاجُ بِأَوْفَقِ الْأَدْوِيَةِ وَ دواؤں اور غذاؤں سے علاج اور ایسی لطیف تدبیر ہے جسے الْأَغْنِيَةِ وَالتَّدْبِيرُ اللطيف الذي لا خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔يَعْلَمُهُ إِلَّا رَبُّ الْعَالَمِينَ۔(کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۲۴، ۱۲۵) (ترجمه از مرتب) چتراط لغت عرب میں ایسی راہ کو کہتے ہیں۔جو سیدھی ہو یعنی تمام اجزاء اس کے وضع استقامت پر واقع ہوں اور ایک دوسرے کی نسبت عین محاذات پر ( ہوں)۔(الحکم جلد 4 نمبر ۵ مورخه ۱۰ر فروری ۱۹۰۵ صفحه ۴) وَ قِيلَ إِنَّ الطريق لا يُسمى اور کہتے ہیں کہ صاحب دل اور روشن ضمیر لوگوں کے صِرَاطًا عِنْدَ قَوْمٍ ذَوِى قَلْب وَنُور نزدیک طریق (راستہ) کو اس وقت تک صراط کا نام نہیں دیا حَتَّى يَتَضَمَّن خَمْسَةَ أُمُورٍ مِن أُمورِ جا سکتا جب تک کہ وہ امور دین میں سے پانچ امور پر مشتمل نہ الدِّينِ وَفِي الاسْتِقَامَةُ وَالْإِيْصَالُ ہو اور وہ یہ ہیں (۱) استقامت (۲) یقینی طور پر مقصود تک إِلَى الْمَقْصُودِ بِالْيَقِينِ وَقُرْب الطَّرِيقِ پہنچانا (۳) اُس کا نزدیک ترین(راہ) ہونا(۴) گزرنے وَسَعَتُه لِلْمَازِينَ وَتَعْيِينَةٌ طَرِيقًا والوں کے لئے اس کا وسیع ہونا اور (۵) سالکوں کی نگاہ میں لِلْمَقْصُوْدِ فِي أَعْيُنِ السَّالِكيْن وَ هُوَ مقصود تک پہنچنے کے لئے اس راستہ کا متعین کیا جانا۔اور چتراط تَارَةً يُضَافُ إِلى اللهِ إِذْ هُوَ شَرْعُهُ وَهُوَ کا لفظ بھی تو خدا تعالیٰ کی طرف مضاف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اُس سوى سُبُلِهِ لِلْمَاشِينَ۔وَتَارَةٌ يُضَافُ کی شریعت ہے اور وہ چلنے والوں کے لئے ہموار راستہ ہے۔اور إِلَى الْعِبَادِ لِكَوْنِهِمْ أَهْلَ السُّلُوكِ وَ کبھی اسے بندوں کی طرف مضاف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس پر چلنے والے اور گزرنے والے اور اسے عبور کرنے والے ہیں۔الْمَآرِينَ عَلَيْهَا وَالْعَابِرِينَ کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۳۷) (ترجمه از مرتب) استقامت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔یہ سچ بات ہے کہ استقامت فوق الکرامت ہے۔کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں اور خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو