تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 236

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۶ سورة الفاتحة الشركِ وَالرِّيَاءِ وَيَخْرُجَ مِنْ جَمَاعَةِ | کرے جو اس میں نہیں ( پائی جاتیں ) اور وہ شرک اور ریا کاری الْمُخْلِصِينَ وَالْمُخْلِصُ يَر فى يوما کے گڑھے میں گر جائے اور مخلصوں کی جماعت سے نکل جائے فَيَوْمًا حَتَّى يَصِيرَ مُخلصًا بفتح اور مخلص بنده دن بدن ترقی کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مخلص بِفَتْحِ اللام و عقب لَهُ الْعِنَايَة سيرًا يَكُونُ ( بفتح لام بمعنی برگزیده) بن جاتا ہے اور ( باری تعالی) کی عنایت بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَهُ وَ يَدْخُلُ في اسے ایک ایسا راز عطا کرتی ہے جو صرف خدا اور اس کے الْمَحْبُوبِينَ وَ يَتَنَزَّلُ مَنْزِلَةَ درمیان ہی ہوتا ہے اور وہ محبوبوں کے زمرہ میں داخل ہو جاتا الْمَقْبُولِينَ وَالْعَبْدُ لَا يَبْلُغُ حَقِيقَةً ہے اور مقبول بندوں کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور کوئی بندہ ایمان الْإِيْمَانِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَفْهَمَ حَقِيقَةَ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اخلاص کی حقیقت کو الإخلاص وَيَقُوْمَ عَلَيْهَا وَلَا يَكُونُ سمجھ نہ لے۔اس پر قائم نہ ہو جائے (اسی طرح وہ ) مخلص نہیں مُخلِصًا وَعِندَهُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ بن سکتا جب تک اس کے نزدیک زمین میں ایسی چیز موجود ہو شَيْءٍ يَتَّكِأُ عَلَيْهِ اَوْ يَخَافُهُ أَوْ يحسبه جس پر بھروسہ کرتا ہو یا وہ اس سے ڈرتا ہو یا اسے منجملہ مِنَ النَّاصِرِينَ دوسرے مددگاروں کے گمان کرتا ہو۔وَ لا يَنْجُو أَحَدٌ مِّنْ غَوَائِلِ کوئی شخص نفس کی ہلاکتوں اور شرارتوں سے نجات حاصل النَّفْسِ وَ شُرُورِهَا إِلَّا بَعْدَ أَنْ نہیں کر سکتا جب تک اس کے اخلاص کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے يَتَقَبَّلَهُ اللهُ بِإِخْلاصِهِ وَ يَعْصِمَه قبول نہ کرلے اور اپنے فضل ، طاقت اور قوت سے اس کی حفاظت بِفَضْلِهِ وَ حَوْلِهِ وَ قُوتِهِ وَيُذِيقَهُ مِن نہ کرے اور اسے روحانی لوگوں کی شراب نہ چکھائے کیونکہ وہ شَرَابِ الرُّوحَانِتِينَ لأَنَّهَا خَبِيقَةٌ (یعنی نفسِ اتارہ) پلید ہے اور وہ اپنی پلیدی میں انتہا کو پہنچا ہوا وَقَدِ انْتَهَتُ إلى غاية الخبث و ہے اور ہلاکت خیز اور گمراہ گن بری خواہشات کے نشو و نما پانے کا صَارَتْ مَنْشَأَ الْأَهْوِيَةِ الْمُضِلَّةِ محل ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ الرَّدِيَّةِ الْمُرْدِيَةِ فَعَلَّمَ اللهُ تَعَالٰی دُعائیں کرتے ہوئے اور اس (نفس) کی برائیوں اور آفات عِبَادَةَ أَنْ تَفِرُوا إِلَيْهِ بِالدُّعَاءِ عَائِنا سے پناہ مانگتے ہوئے اس ( خدا تعالی ) کی طرف دوڑے چلے مِنْ شُرُوْرِهَا وَ دَوَاهِيْهَا لِيُدخِلَهُمْ آئیں تا کہ وہ انہیں محفوظ لوگوں کے گروہ میں داخل کر دے۔یقین فِي زُمَرِ الْمَحْفُوظِینَ وَ إِنَّ مَثَلَ جانیں کہ نفس کے جذبات کی مثال تیز بخاروں کی مانند ہے۔پس