تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 235
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۵ سورة الفاتحة وَ فِي هَذِهِ السُّورَةِ يُعَلِّمُ اللهُ تَعَالَى اور اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ اپنے مسلمان بندوں کو تعلیم عِبَادَهُ الْمُسْلِمِينَ فَكَأَنَّهُ يَقُولُ يَا عِبَادِ دیتا ہے۔پس گویا وہ فرماتا ہے اے میرے بندو! تم نے إنَّكُمْ رَأَيْتُمُ الْيَهُود و النصاری یہود و نصاری کو دیکھ لیا ہے تم اُن جیسے اعمال کرنے سے فَاجْتَنِبُوا شِبْهَ أَعْمَالِهِمْ وَ اعْتَصِمُوا اجتناب کرو اور دُعا اور استعانت کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو بحَبْلِ الدُّعَاءِ وَ الْإِسْتِعَانَةِ وَلَا تَنْسَوُا اور یہود کی مانند اللہ کی نعمتوں کومت بھلاؤ ورنہ اُس کا نَعْمَاءَ اللهِ كَالْيَهُودِ فَيَجِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبُة غضب تم پر نازل ہوگا۔اور تم سچے علوم اور دُعا کومت وَلَا تَتْرُكُوا الْعُلُوْمَ الصَّادِقَةَ وَالدُّعَاء وَ چھوڑو اور نصاری کی طرح طلب ہدایت میں سُست نہ ہو لَا تَهِدُوا مِنْ طَلَبِ الْهِدَايَةِ كَالنَّصَارَی جاؤ۔ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے۔اور ہدایت کے طلب کرنے فَتَكُونُوا مِنَ الصَّانِينَ۔وَحَثَّ عَلی طلب کی ترغیب دی اس بات کی) طرف اشارہ کرتے ہوئے الْهِدَايَةِ إشَارَةً إِلى أَنَّ الثَّبَات عَلَى کہ ہدایت پر ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دُعا اور الْهِدَايَةِ لَا يَكُونُ إِلَّا بِدَوامِ الدُّعَاءِ وَ گریہ وزاری میں دوام کے بغیر ممکن نہیں۔مزید برآں اس التَّضَرُّع في خطرَةِ اللهِ وَمَعَ ذَلِكَ إِشَارَةٌ طرف بھی اشارہ ہے کہ ہدایت ایک ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ إلى أَنَّ الْهَدَايَةَ أَمْرٌ مِن لَّدَيْهِ وَ الْعَبْدُ لا کی طرف سے ہی ملتی ) ہے اور جب تک کہ خدا تعالی خود يَهْتَدِى أَبَدًا مِنْ غَيْرِ أَن يَهْدِيَهُ اللهُ بندہ کی رہنمائی نہ کرے اور اسے ہدایت یافتہ لوگوں میں وَيُدخِلَهُ فِي الْمَهْدِيَّين۔داخل نہ کر دے وہ ہر گز ہدایت نہیں پاسکتا۔وَإِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ الْهِدَايَةَ غَيْرُ پھر اس (امر کی ) طرف بھی اشارہ ہے کہ ہدایت کی مُتَنَاهِيَةٍ وَتَرَبُّى النُّفُوسِ إِلَيْهَا بِسُلَّم کوئی انتہاء نہیں اور انسان دعاؤں کی سیڑھی کے ذریعہ ہی الدَّعَوَاتِ وَ مَنْ تَرَكَ الدُّعَاء فَأَضَاعَ اس تک پہنچ سکتے ہیں اور جس شخص نے دعا کو چھوڑ دیا اس سُلَّمَه فَإِنَّمَا الْحَرِى بِالْاهْتِدَاءِ مَنْ كَانَ نے اپنی سیڑھی کھو دی۔یقینا ہدایت پانے کے قابل وہی رطب النِّسَانِ بِالدُّعَاءِ وَ ذِكْرِرَيْهِ وَكَانَ ہے جس کی زبان ذکر الہی اور دعا سے تر رہے اور وہ اس پر عَلَيْهِ مِنَ الْمُدَاوِمِينَ وَ مَنْ تَرَكَ دوام اختیار کرنے والوں میں سے ہو اور جس کسی نے بھی دعا الدُّعَاء وَادَّعَى الْاِهْتِدَاء فَعَسَى أَن يَتَزَيَّنَ کو چھوڑ کر ہدایت یافتہ ہونے کا دعویٰ کیا تو قریب ہے کہ وہ لِلنَّاسِ بِمَا لَيْسَ فِیهِ وَ يَقَعَ فِي هُوَةِ | لوگوں کی خاطر ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو آراستہ ظاہر