تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 234
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۴ سورة الفاتحة فَهَذِهِ آخِرُ الْمَقَامَاتِ لِلسَّالِكِينَ وَ پس یہ سالکوں کے لئے کیا مرد اور کیا عورت آخری الصَّالِحَاتِ، وَ إِلَيْهِ تَنتَبِى مَطايا مقام ہے اور ریاضتوں کے تمام مرکب اسی پر جا کر ٹھہر الرِّيَاضَاتِ، وَ فِيهِ يَخْتَتِمُ سُلُوك جاتے ہیں اور اسی میں اولیاء کے ولایتوں کے سلوک ختم الوَلَايَاتِ وَهُوَ الْمُرَادُ مِنَ الْإِسْتِقَامَةِ في ہوتے ہیں۔اور وہ استقامت جس کا ذکر سورۃ فاتحہ کی دعا دُعَاءِ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ، وَكُلَّ مَا يَتَضَرَّهُ مِن میں ہے اس سے مراد یہی مرتبہ سلوک ہے۔اور نفس اتارہ أَهْوَاءِ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ فَتَذُوبُ في هذا کی جس قدر ہوا و ہوس بھڑکتی ہے وہ اسی مقام میں خدائے الْمَقَامِ بِحُكْمِ اللهِ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْعِزَّةِ، ذوالجبروت والعزت کے حکم سے گداز ہوتی ہے۔پس قتفتح البلدة كُلُّهَا وَلَا تَبْقَى الضَّوْضَاةُ تمام شہر فتح ہو جاتا ہے اور ہوا و ہوس کے عوام کا شور باقی لِعَامَّةِ الْأَهْوَاء وَيُقَالُ لِمَنِ الْمُلْكُ نہیں رہتا اور کہا جاتا ہے کہ آج کس کا ملک ہے اور یہ الْيَوْمَ لِلَّهِ ذِي الْمَجْدِ وَالْكِبْرِيَاءِ جواب ہوتا ہے کہ خدائے ذوالحجد والکبر یا کا۔نجم الهدی، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۴ تا ۳۶) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی راہ یا یوں کہو کہ ہدایت کے اسباب اور وسائل تین ہیں۔یعنی ایک یہ کہ کوئی گم گشتہ محض خدا کی کتاب کے ذریعہ سے ہدایت یاب ہو جائے اور دوسرے یہ کہ اگر خدا تعالیٰ کی کتاب سے اچھی طرح سمجھ نہ سکے تو عقلی شہادتوں کی روشنی اس کو راہ دکھلاوے۔اور تیسرے یہ کہ اگر عقلی شہادتوں سے بھی مطمئن نہ ہو سکے تو آسمانی نشان اس کو اطمینان بخشیں۔یہ تین طریق ہیں جو بندوں کے مطمئن کرنے کے لئے قدیم سے عادۃ اللہ میں داخل ہیں یعنی ایک سلسلہ کتب ایمانیہ جو سماع اور نقل کے رنگ میں عام لوگوں تک پہنچتا ہے جن کی خبروں اور ہدایتوں پر ایمان لانا ہر ایک مومن کا فرض ہے اور ان کا مخزن اتم اور اکمل قرآن شریف ہے۔دوسرا سلسلہ معقولات کا جس کا منبع اور ماخذ دلائل عقلیہ ہیں۔تیسرا سلسلہ آسمانی نشانوں کا جس کا سر چشمہ نبیوں کے بعد ہمیشہ امام الزمان اور مجد والوقت ہوتا ہے۔اصل وارث ان نشانوں کے انبیاء علیہم السلام ہیں۔پھر جب ان کے معجزات اور نشان مدت مدید کے بعد منقول کے رنگ میں ہو کر ضعیف التاثیر ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کے قدم پر کسی اور کو پیدا کرتا ہے تا پیچھے آنے والوں کے لئے نبوت کے عجائب کرشمے بطور منقول ہو کر مردہ اور بے اثر نہ ہو جائیں۔بلکہ وہ لوگ بھی بذات خود نشانوں کو دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔(کتاب البریۃ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹)