تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 194

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۴ سورة الفاتحة دوسرا فرقہ وہ ہے جس کی طرف الرحمن کے لفظ میں اشارہ ہے۔اور یہ فرقہ سناتن دھرم والوں کا ہے۔گو وہ مانتے ہیں کہ پر میشر سے ہی سب کچھ نکلا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ خدا کا فضل کوئی چیز نہیں وہ کرموں کا ہی پھل دیتا ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی مرد بنا ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر کوئی عورت بنی ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر ضروری اشیاء حیوانات نباتات وغیرہ بنے ہیں تو وہ بھی اپنے اپنے کرموں کی وجہ سے۔الغرض یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان سے منکر ہیں۔وہ خدا جس نے زمین سورج چاند ستارے وغیرہ پیدا کئے اور ہوا پیدا کی تاہم سانس لے سکیں اور ایک دوسرے کی آواز سن سکیں اور روشنی کے لئے سورج چاند وغیرہ اشیاء پیدا کیں اور اس وقت پیدا کیں جب کہ ابھی سانس لینے والوں کا وجود اور نام ونشان بھی نہ تھا تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ہی اعمال کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے۔کیا کوئی اپنے اعمال کا دم مارسکتا ہے۔کیا کوئی دعوی کر سکتا ہے کہ یہ سورج چاند ستارے ہوا وغیرہ میرے اپنے عملوں کا پھل ہے غرض خدا کی صفت رحمانیت اس فرقہ کی تردید کرتی ہے جو خدا کو بلا مبادلہ یعنی بغیر ہماری کسی محنت اور کوشش کے بعض اشیاء کے عنایت کرنے والا نہیں جانتے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کی صفت الرحیم کا بیان ہے یعنی محنتوں کوششوں اور اعمال پر ثمرات حسنہ مترتب کرنے والا۔یہ صفت اس فرقہ کا رو کرتی ہے جو اعمال کو بالکل لغو خیال کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں نماز کیا تو روزے کیا اگر غفور الرحیم نے اپنا فضل کیا تو بہشت میں جائیں گے نہیں تو جہنم میں۔اور کبھی کبھی یہ لوگ اس قسم کی باتیں بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ میاں عبادتاں کر کے ولی تو ہم نے کچھ تھوڑا ہی بنا۔کچھ کیتا کیتا نہ کیتا نہ سہی۔غرض الرّحیم کہ کر خدا ایسے ہی لوگوں کا رڈ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ جو محنت کرتا ہے اور خدا کے عشق اور محبت میں محو ہو جاتا ہے۔وہ دوسروں سے ممتاز اور خدا کا منظورِ نظر ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی خود دستگیری کرتا ہے۔۔۔۔اب تین فرقوں کی بابت تو تم سن چکے ہو۔یعنی ایک فرقہ تو وہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو رب نہیں سمجھتا اور ذرہ ذرہ کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے اور مانتا ہے کہ ارواح اور ذرات عالم کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی طاقت سے باہر ہے اور جیسے خدا خود بخود ہے ویسے ہی وہ بھی خود بخود ہے۔اس لئے رب العالمین کہہ کر اس فرقہ کی تردید کی گئی ہے۔دوسرا فرقہ وہ ہے۔جو سمجھتا ہے کہ خدا اپنے فضل سے کچھ نہیں دے سکتا۔جو کچھ بھی ہمیں ملا ہے اور ملے گا وہ ہمارے اپنے کرموں کا پھل ہے اور ہو گا۔اس لئے لفظ رحمن کے ساتھ اس کارڈ کیا گیا ہے اور اس کے بعد