تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 193

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۳ سورة الفاتحة غضب کی کیفیت قوت سبھی سے پیدا ہوتی ہے اور ضلالت وہمی قوت سے پیدا ہوتی ہے۔اور وہمی قوت حد سے زیادہ محبت سے پیدا ہوتی ہے۔بیجا محبت والا انسان بہک جاتا ہے حبك الشي يعمى ويصم - اس کا مبدء اور منشاء قوت وہمی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ چادر کو بیل سمجھتا ہے اور رسی کو سانپ بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی شاعر نے اپنا معشوق ایسا قرار نہیں دیا جو دوسروں سے بڑھ کر نہ ہو۔ہر ایک کے واہمہ نے نئی تصویر ایجاد کی۔قوت بہیمی میں جوش ہو کر انسان جادہ اعتدال سے نکل جاتا ہے۔چنانچہ غضب کی حالت میں درندہ کا جوش بڑھ جاتا ہے۔مثلاً کتا پہلے آہستہ آہستہ بھونکتا ہے پھر کوٹھا سر پر اٹھا لیتا ہے۔آخر کار درندے طیش میں آ کر نو چتے اور پھاڑ کھاتے ہیں۔یہود نے بھی اسی طرح ظلم و تعدی کی بُری عادتیں اختیار کیں اور غضب کو حدّ تک پہنچا دیا۔آخر خود مغضوب ہو گئے۔قوت وہمی کو جب استیلاء ہوتا ہے تو انسان رسی کو سانپ بنا تا اور درخت کو ہاتھی بتلاتا ہے۔اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔یہ قوت عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے۔اسی واسطے عیسائی مذہب اور بت پرستی کا بڑا سہارا عورتیں ہیں۔غرض اسلام نے جادہ اعتدال پر رہنے کی تعلیم دی جس کا نام الصراط المستقیم ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۱۴ مؤرخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۰ ء صفحه ۸،۷) سورۃ فاتحہ میں آریوں اور سنا تنیوں کا رد سورۃ فاتحہ میں جو پنج وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اشارہ کے طور پر کل عقائد کا ذکر ہے۔جیسے فرما یا اللہ تعالیٰ نے اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔یعنی ساری خوبیں اس خدا کے لئے سزاوار ہیں جو سارے جہانوں کو پیدا کرنے والا ہے۔الر حمن۔وہ بغیر اعمال کے پیدا کرنے والا ہے اور بغیر کسی عمل کے عنایت کرنے والا ہے۔الرحیم۔اعمال کا پھل دینے والا۔ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ - جزا سزا کے دن کا مالک ان چار صفتوں میں گل دنیا کے فرقوں کا بیان کیا گیا ہے۔بعض لوگ اس بات سے منکر ہیں کہ خدا ہی تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جیو یعنی ارواح اور پر مانوں یعنی ذرات خود بخود ہیں اور جیسے پر میشر آپ ہی آپ چلا آتا ہے ویسے ہی وہ بھی آپ ہی آپ چلے آتے ہیں۔اور ارواح اور ان کی کل طاقتیں گن اور خواص جن پر دفتروں کے دفتر لکھے گئے خود بخود ہیں اور ذرات عالم اور ان کی تمام قو تیں بھی خود بخود ہیں اور با وجود اس کے کہ ان میں قوت اتصال اور قوت انفصال خود بخود پائی جاتی ہے۔وہ آپس میں ملاپ کرنے کے لئے ایک پر میشر کے محتاج ہیں۔غرض یہ وہ فرقہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے رب العلمین کہ کر اشارہ کیا ہے۔