تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 195
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۵ سورة الفاتحة آتا ہے۔الرحیم کہہ کر اس فرقہ کی تردید کی گئی ہے (جو ) اعمال کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں اب ان تین فرقوں کا بیان کر کے فرمایا یعنی جزا سزا کے دن کا مالک اور اِس سے اُس گروہ کی تردید مطلوب ہے جو کہ جزا سزا کا قائل نہیں۔کیونکہ ایسا ایک فرقہ بھی دنیا میں موجود ہے جو جزا سزا کا منکر ہے۔جو خدا کو رحیم نہیں مانتے ان کو تو بے پرواہ بھی کہہ سکتے ہیں مگر جو مالک یوم الدین والی صفت کو نہیں مانتے وہ تو خدا کی ہستی سے بھی منکر ہوتے ہیں اور جب خدا کی ہستی ہی نہیں جانتے تو پھر جزا سزا کس طرح ما نہیں۔غرض ان چار صفات کو بیان کر کے خدا فرماتا ہے کہ اے مسلما نو تم کہو کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔یعنی اے چار صفتوں والے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور اس کام کے لئے مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔اور یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو چار فرشتوں نے اُٹھایا ہوا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کی ان چاروں صفات کا ظہور موجود ہے۔اور اگر یہ چار نہ ہوں یا چاروں میں سے ایک نہ ہو تو پھر خدا کی خدائی میں نقص لازم الحکم جلد ۱۲ نمبر امورخه ۲ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۲/۵) قرآن شریف کی پہلی آیت ہی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جسم اور جسمانی ہونے سے پاک ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمینَ یعنے خدا ہی کو سب تعریف اور حمد اور مدح ہے وہ کیسا ہے! تمام عالموں کا ربّ ہے جس کی ربوبیت ہر یک عالم کے شامل حال ہے۔اب ظاہر ہے کہ عالم ان چیزوں کا نام ہے جو معلوم الحدود ہونے کی وجہ سے ایک صانع محد و پر دلالت کریں اور لفظ عالم کا اسی معلوم الحدود ہونے سے مشتق کیا گیا ہے اور جو چیز معلوم الحدود ہے وہ یا تو جسم اور جسمانی ہوگی اور یا روحانی طور پر کسی حد تک اپنی طاقت رکھتی ہوگی۔جیسی انسان کی روح۔گھوڑے کی روح۔گدھے کی روح وغیرہ وغیرہ حدود مقررہ تک طاقتیں رکھتی ہیں۔پس یہ سب عالم میں داخل ہیں اور وہ جو ان سب کا پیدا کنندہ اور ان سے برتر ہے وہ خدا ہے۔اب غور سے دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں نہ صرف یہ ظاہر کیا کہ وہ جسم اور جسمانی ہونے سے برتر ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ یہ تمام چیزیں معلوم الحدود ہونے کی وجہ سے ایک خالق کو چاہتی ہیں جو حدود اور قیود سے پاک ہے۔اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ آریوں کی عقل کو کس قدر تعصب نے مارلیا ہے کہ جو مضمون قرآن شریف کی پہلی آیت سے ہی نکلتا ہے اس پر بھی نظر نہیں کی اور علمیت کا یہ حال کہ یہ بھی خبر نہیں کہ عالم کسے کہتے ہیں حالانکہ عالم ایک ایسا لفظ ہے جو ہر یک فلسفی اور حکیم اس کے یہی معنے لیتا ہے اور قرآن شریف کی عام اصطلاح میں اوّل سے اخیر تک یہی معنے اس کے لئے گئے۔اور دنیا کی تمام پابند الہامی کتابوں کے بجز یہ لفظ غالباً سہو کا تب سے لکھنارہ گیا ہے۔(مرتب)