تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 89

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۹ سورة الفاتحة كَثِيرًا مِنَ الْمَخْلُوقِيْنَ فَهَذَا هُوَ الظَّنُ قرار دیتے ہیں۔پس یہ ایسا غلط خیال ہے جس نے ان کو الَّذِي أَرْدَاهُمْ وَالتَّقْلِيدُ الَّذِي أَبَادَهُمْ ہلاک کر دیا ہے۔اور وہ اندھی تقلید ہے جس نے ان کو برباد وَأَهْلَكَهُمْ بِمَا عَوَّلُوا عَلى أَقوالِ کر دیا ہے۔مفتریوں کے اقوال پر بھروسہ کرنے نے ان کو الْمُفْتَرِينَ وَزَعَمُوا أَنَّهُمُ من بلاک کر دیا اور انہوں نے یہی سمجھ رکھا ہے کہ وہ بچے ہیں۔الصَّادِقِينَ۔وَقَالُوا إِنَّ هذه في الأثار اور کہتے ہیں کہ یہ باتیں احادیث کی منتخب مدوّن کتابوں هَذِهِ الْمُنتَقَاةِ الْمُدَوَّنَةِ عَنِ الفِقَاتِ وَمَا میں ثقہ راویوں سے درج ہیں۔انہوں نے اپنے آباء کے تَوَجَّهُوا إِلَى عَثْرِ أَبَاعِهِمْ وَجَهْلِ عُلَمَائِهِمْ ٹھوکریں کھانے اور اپنے علماء کے ناواقف ہونے اور ان وَ تَشْرِيفِهِمْ وَتَغْرِيْهِمْ مِنْ مراکز کے انبیاء کی تعلیموں کے مراکز سے مشرق و مغرب کی طرح تَعَالِيمِ النَّبِيِّينَ وَتَيُهِهِمْ فِي كُلّ وَادٍ دور اور ہر وادی میں حیران و پریشان بھٹکنے کی طرف توجہ هَائِمِينَ وَالْعَجَبُ مِنْ فَهْمِهِمْ وَ نہیں کی۔اُن کے عقل و فہم پر تعجب ہے کہ وہ جانتے نہیں کہ عَقْلِهِمْ أَنَّهُمْ يَعْلَمُونَ أَنَّ اللهَ كَامِل نام اللہ تعالیٰ کی ذات پوری طرح کامل ہے اس میں کسی کمی یا لَّا يَجورُ فِيهِ نَفْصٌ وَشُنْعَةٌ وَشُحُوبٌ قباحت یا میلا پن یا فروگذاشت یا تغیر و تبدل کا کوئی جواز وَذُهُولٌ وَ تَغَيرُ وَحُؤُولٌ ثُمَّ يُجوزُونَ فِيهِ نہیں۔پھر وہ اس میں بہت سی ایسی باتوں کو روا ر کھتے ہیں اور كَثِيرًا مِنْهَا وَيَنْسِبُونَ إِلَيْهِ كُلَّ شَقْوَةٍ اس کی طرف ہر بدبختی ، گھاٹے ، عیب اور نقصان کو منسوب وَخُسْرَانٍ وَعَيْبٍ وَنُقْصَانٍ وَ يُكَذِبُونَ کرتے ہیں اور اس بات کی خود ہی تکذیب کر رہے ہیں جس مَا كَانُوْا صَدَّقُوهُ أَوَّلًا وَيَهْدُونَ کی انہوں نے پہلے تصدیق کی تھی اور پاگلوں کی طرح بکواس کرتے رہتے ہیں۔كَالْمَجَانِينَ۔66 وفي لفظ الْحَمْدُ لِلَّهِ تَعْلِيمُ الْحَمدُ لِلهِ کے الفاظ میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی لِلْمُسلِمِينَ أَنَّهُمْ إِذَا سُئِلُوا وَقِيلَ لَهُمْ ہے کہ جب اُن سے سوال کیا جائے اور اُن سے پوچھا مَن إِلهُكُمْ فَوَجَبٌ عَلَى الْمُسْلِمِ أَنْ جائے کہ اُن کا معبود کون ہے تو ہر مسلمان پر واجب ہے کہ تجيبه أَنَّ إِلهِي الَّذِى لَهُ الْحَمْدُ كُلُهُ وَمَا وہ یہ جواب دے کہ میرا معبود وہ ہے جس کے لئے سب حمد مِن نَوعِ كَمَالٍ وَ قُدْرَةٍ إِلَّا وَلَهُ ثابت ہے اور کسی قسم کا کوئی کمال اور قدرت ایسی نہیں مگر وہ اس فَلَا تَكُن مِّنَ النَّاسِينَ وَلَوْ لاحَظ کے لئے ثابت ہے۔پس تو بھولنے والوں میں سے نہ بن۔