تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 89
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۹ سورة الفاتحة كَثِيرًا مِّنَ الْمَخْلُوقِيْنَ فَهُذَا هُوَ الظَّن قرار دیتے ہیں ۔ پس یہ ایسا غلط خیال ہے جس نے ان کو الَّذِي أَرْدَاهُمْ وَالتَّقْلِيدُ الَّذِي أَبَادَهُمُ ہلاک کر دیا ہے۔ اور وہ اندھی تقلید ہے جس نے ان کو بر باد وَأَهْلَكَهُمْ بِمَا عَوَّلُوا عَلَى أَقْوَالِ کر دیا ہے۔ مفتریوں کے اقوال پر بھروسہ کرنے نے ان کو الْمُفْتَرِينَ وَزَعَمُوا أَنَّهُمْ مِنَ ہلاک کر دیا اور انہوں نے یہی سمجھ رکھا ہے کہ وہ سچے ہیں۔ الصَّادِقِينَ وَ قَالُوا إِنَّ هَذِهِ فِي الْآثَارِ اور کہتے ہیں کہ یہ باتیں احادیث کی منتخب مدوّن کتابوں الْمُنْتَقَاةِ الْمُدَوَّنَةِ عَنِ الثَّقَاتِ وَمَا میں ثقہ راویوں سے درج ہیں ۔ انہوں نے اپنے آباء کے تَوَجَّهُوا إِلَى عَثْرِ آبَائِهِمْ وَجَهْلِ عُلَمَائِهِمْ ٹھوکریں کھانے اور اپنے علماء کے ناواقف ہونے اور ان وَ تَشْرِيقِهِمْ وَتَغْرِيبِهِمْ مِنْ مَرَائِزِ کے انبیاء کی تعلیموں کے مراکز سے مشرق و مغرب کی طرح تَعَالِيمِ النَّبِيِّينَ وَتَيْبِهِمْ فِي كُلِّ وَادٍ دور اور ہر وادی میں حیران و پریشان بھٹکنے کی طرف توجہ هَائِمِينَ وَالْعَجَبُ مِنْ فَهْمِهِمْ وَ نہیں کی ۔ اُن کے عقل و فہم پر تعجب ہے کہ وہ جانتے نہیں کہ عَقْلِهِمْ أَنَّهُمْ يَعْلَمُونَ أَنَّ اللهَ كَامِل تَام اللہ تعالیٰ کی ذات پوری طرح کامل ہے اس میں کسی کمی یا لَّا يَجُوزُ فِيْهِ نَقُصُ وَشُنْعَةٌ وَشُحُوبٌ قباحت یا میلا پن یا فروگذاشت یا تغیر و تبدل کا کوئی جواز وَذُهُولٌ وَ تَغَيْرُ وَحُؤُولٌ ثُمَّ يُجَوِّزُونَ فِيهِ نہیں ۔ پھر وہ اس میں بہت سی ایسی باتوں کو روا رکھتے ہیں اور كَثِيرًا مِنْهَا وَيَنْسِبُونَ إِلَيْهِ كُلَّ شَقْوَةٍ اس کی طرف ہر بدبختی ، گھاٹے، عیب اور نقصان کو منسوب وَخُسْرَانٍ وَعَيْبٍ وَنُقْصَانٍ وَ يُكَذِّبُونَ کرتے ہیں اور اس بات کی خود ہی تکذیب کر رہے ہیں جس مَا كَانُوا صَدَّقُوهُ أَوَّلًا وَيَهْدُونَ کی انہوں نے پہلے تصدیق کی تھی اور پاگلوں کی طرح بکواس كَالْمَجَانِينَ۔ کرتے رہتے ہیں۔ وَفِي لَفْظِ الْحَمْدُ لِلَّهِ تَعْلِيمُ الْحَمْدُ لِلَّهِ کے الفاظ میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی لِلْمُسْلِمِينَ أَنَّهُمْ إِذَا سُئِلُوا وَقِيلَ لَهُمْ ہے کہ جب اُن سے سوال کیا جائے اور اُن سے پوچھا مَنْ إِلَهُكُمْ فَوَجَبَ عَلَى الْمُسْلِمِ أَنْ جائے کہ اُن کا معبود کون ہے تو ہر مسلمان پر واجب ہے کہ يُجِيبَهُ أَنَّ إِلَهِيَ الَّذِي لَهُ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَمَا وہ یہ جواب دے کہ میرا معبود وہ ہے جس کے لئے سب حمد مِنْ نَوْعِ كَمَالٍ وَ قُدْرَةٍ إِلَّا وَلَهُ ثَابِتٌ ہے اور کسی قسم کا کوئی کمال اور قدرت ایسی نہیں مگر وہ اس فَلَا تَكُنْ مِنَ النَّاسِينَ وَلَوْ لاحَظَ کے لئے ثابت ہے۔ پس تو بھولنے والوں میں سے نہ بن ۔