تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 90

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٩٠ سورة الفاتحة الْمُشْرِكِينَ حَظِّ الْإِيْمَانِ وَ أَصَابَهُمْ طَل اگر مشرکوں پر ایمان کی کچھ بھی جھلک پڑ جاتی اور ان پر مِنَ الْعِرْفَانِ لَمَا طَاحَ بِهِمُ ظَنُّ السَّوْءِ عرفان کی ہلکی سی بارش بھی ہو جاتی تو انہیں قیوم عالمین پر بِالَّذِي هُوَ قَيُّومُ الْعَالَمِينَ وَلَكِنَّهُمْ بدظنی کرنا تباہ نہ کرتا۔لیکن انہوں نے خدا تعالیٰ کو ایسے شخص : حَسِبُوهُ كَرَجُلٍ شَاءَ بَعْدَ الشَّبَابِ کی مانند سمجھ لیا جو جوانی کے بعد بوڑھا ہو گیا ہو اور اپنی وَاحْتَاجَ بَعْدَ صَمَدِيَّتِهِ إِلَى الْأَسْبَابِ و بے نیازی کے بعد محتاج ہو گیا ہو اس پر بڑھاپا اور لاغری وَقَعَتْ عَلَيْهِ شَدَائِدُ تُحول و تحول و کی مصیبتیں اور قحط کی سختیاں وارد ہوئی ہوں اور وہ مٹی قَشَفْ قُحُولُ وَوَقَعَ فِي الْأَتْرَابِ بَلْ قَرُبَ میں مل گیا بلکہ تباہی کے کنارے جالگا ہو اور بالکل محتاج مِنَ التَّبَابِ وَكَانَ مِنَ الْمُتْرَبِيْنَ ہو گیا ہو۔( ترجمہ از مرتب ) (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۰۶ تا ۱۱۰) اس سورۃ کو اَلْحَمدُ لِلہ سے شروع کیا گیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک حمد اور تعریف اس ذات کے لئے مسلم ہے جس کا نام اللہ ہے۔اور اس فقرہ الحمد للہ سے اس لئے شروع کیا گیا کہ اصل مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت رُوح کے جوش اور طبیعت کی کشش سے ہو اور ایسی کشش جو عشق اور محبت سے بھری ہوئی ہو ہر گز کسی کی نسبت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ شخص ایسی کامل خوبیوں کا جامع ہے جن کے ملاحظہ سے بے اختیار دل تعریف کرنے لگتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے۔ایک کمال حسن اور ایک کمال احسان اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں جمع ہوں تو پھر اُس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے۔اور قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اُس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور روح کے جوش اور کشش سے اُس کی بندگی کریں۔اس لئے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف قرآن بلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔سو اسی غرض سے اس سورۃ کو الْحَمدُ لِلہ سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اللہ ہے۔اور قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اللہ اُس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں محسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی منقصت اُس کی ذات میں نہ ہو۔قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کا ملہ اس میں