تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 88
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٨٨ سورة الفاتحة صِفَاتٍ تَلِيْقُ بِذَاتِهِ وَ تَذَكُرُ مَا هُوَ لائق صفات کی جستجو کی جائے اور ان صفات کا ورد کیا جائے جو أَوْلى مِنْ جَدْوَى وَأَخرى من عدومی ہر مادی عطیہ سے بہتر اور ہر مدد سے مناسب تر ہیں اور اس نے وَ تَصَوُّرُ مَا أَثْبَتَ بِأَفعَالِهِ مِن قُوتِهِ اپنے کاموں سے جو صفات ثابت کی ہیں یعنی اس کی قوت اس وَ حَوْلِهِ وَ قَهره وطوله فاحفظہ کی طاقت اس کا غلبہ اور اس کی سخاوت کا تصور کیا جائے۔پس وَلَا تَكُن مِنَ اللَّافِتِين اس بات کو یا درکھو اور لا پروا مت بنو۔وَاعْلَمُ أَنَّ الرُّبُوبِيَّةَ كُلها لله اور جان لو کہ ربوبیت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے۔وَالرَّحْمَانِيةَ كُلَّهَا لِلَّهِ وَالرَّحِيْمِيَّةَ اور رحمانیت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے۔اور رحیمیت كُلَّهَا لِلهِ وَالْحُكْمَ في يَوْمِ الْمَجازاة ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے اور جزا سزا کے دن کامل كُلَّهُ لِلهِ فَإِيَّاكَ وَتَأْتِيكَ مِنْ مُطَاوَعَةِ حکومت اللہ کے لئے ہے پس اے مخاطب اپنے پرورش کنندہ مُرَبِّيكَ وَكُن مِّنَ الْمُسْلِمِینَ کی اطاعت سے انکار نہ کر اور مؤحد مسلمانوں میں سے بن جا۔الْمُوَخِدِينَ۔وَأَشَارَ فِي الْآيَةِ إلى أنه پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ تَعَالَى مُنَزِّهُ مِن تَجَدُّدِ صِفَةٍ وحُزُولِ (پہلی صفت کے زوال کے بعد ) کسی نئی صفت کو اختیار کرنے حَالَةٍ وَلُحُوقِ وَحْمَةٍ وَ حَوْرِ بَعْدَ گور اور اپنی شان کے تبدیل ہونے اور کسی عیب کے لاحق ہونے بَلْ قَد ثَبَتَ الْحَمْدُ لَهُ أَولا واخراو اور نقص کے بعد خوبی کے پانے سے پاک ہے۔بلکہ اس کے ظَاهِرًا وَبَاطِنَّا إِلَى أَبَدِ الْآبِدِينَ وَ لئے اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ابدالآباد تک حمد ثابت ہے۔مَنْ قَالَ خِلَافَ ذَلِكَ فَقَدِ احْرَورَفَ اور جو اس کے خلاف کہے وہ حق سے برگشتہ ہو کر کافروں میں وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِيْنَ سے ہو گیا۔وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ رَدُّ عَلَی آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ یہ آیت نصار کی اور بت پرستوں النَّصَارَى وَعَبَدَةِ الْأَوْتَانِ فَإِنَّهُمْ لَا کی تردید کرتی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق پوری طرح ادا نہیں يُوفُونَ اللهَ حَقَّهُ وَلَا يَرْجُونَ لَه بزقه کرتے اور اس کی روشنی کے پھیلنے کی امید نہیں رکھتے بلکہ اس بَلْ يُعْرِفُونَ عَلَيْهِ سِتَارَةَ الظُّلام پر اندھیرے کا پردہ پھیلا دیتے ہیں۔اور اس کو دُکھوں کی وَيُلْقُونَهُ فِي سُبُلِ الأَلَامَ يُبْعِدُونَهُ راہوں میں ڈال دیتے ہیں۔اور اس کو پورے کمال سے دور مِنَ الْكَمَالِ الثَّامِ وَيُشرِكُونَ پہ رکھتے ہیں۔اور مخلوق میں سے ایک کثیر حصہ کو اس کا شریک