تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 87

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۷ سورة الفاتحة وَيُعْطُونَهُ صَفْقَةَ الْعَهْدِ وَيُطَهِّرُونَ ہیں اور اس سے عہد بیعت باندھتے ہیں اور اپنے نفوس کو أَنْفُسَهُمْ مِنَ الطِّغْنِ وَالْحِقْدِ تُفَتَّحُ ہر قسم کے بعض اور کینہ سے پاک کرتے ہیں ان پر اس عَلَيْهِمْ أَبْوَابُهَا فَإِذَا هُمْ مِنَ سورة کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ فوراً صاحب بصیرت بن جاتے ہیں۔الْمُبْصِرِينَ وَ مَعَ ذَلِكَ فِيْهِ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّهُ مَنْ اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ میں ایک یہ اشارہ بھی ہے هَلَكَ بِخُطَاهُ فِي أَمْرِ مَعْرِفَةِ اللهِ تَعَالى أَوِ کہ جو معرفت باری تعالیٰ کے معاملہ میں اپنے بد اعمال سے اتَّخَذَ إِلَهَا غَيْرَهُ فَقَدْ هَلَكَ مِن رَّفْضِ ہلاک ہوا یا اس کے سوا کسی اور کو معبود بنالیا تو سمجھو کہ وہ شخص رِعَايَةِ كَمَالَاتِهِ وَ تَرْكِ التَّأَتُقِ في خدا تعالیٰ کے کمالات کی طرف سے اپنی توجہ پھیر لینے ، اس عَجَائِبَاتِهِ وَالْغَفْلَةِ عَمَّا يَلِيقُ بِذَاتِهِ کے عجائبات کا نظارہ نہ کرنے اور جو امور اس کی شایانِ شان كَمَا هُوَ عَادَةُ الْمُبْطِلِينَ۔اَلا تَنْظُرُ اِلَی ہیں ان سے باطل پرستوں کی طرح غفلت برتنے کے نتیجہ النَّصَارَى أَنَّهُمْ دُعُوا إِلَى التَّوْحِيدِ میں ہلاک ہو گیا۔کیا تو نصاری کو نہیں دیکھتا کہ انہیں توحید کی فَمَا أَهْلَكَهُمْ إِلَّا هذه الْعِلَّهُ وَ سَولّت دعوت دی گئی تو انہیں اسی بیماری نے ہلاک کیا اور ان کے لَهُمُ النَّفْسُ الْمُضِلَّةُ وَالشَّهَوَةُ الْمُزلّة گمراہ کرنے والے نفس اور پھسلا دینے والی خواہشات نے آنِ الْخَذُوا عَبْدًا اِلهَا وَارْ تَضَعُوا عُقَارَ ان کے لئے ( یہ گمراہ کن ) خیال خوبصورت کر کے دکھا دیا الضَّلالَةِ وَالْجَهَالَةِ وَنَسُوا كَمَالَ اللہ اور انہوں نے ایک (عاجز ) بندے کو خدا بنالیا اور گمراہی اور تَعَالَى وَ مَا يَجِبُ لِذَاتِهِ وَنَحَنُوا لِلهِ جہالت کی شراب پی لی۔اللہ تعالی کے کمال اور اس کی الْبَنَاتِ وَالْبَنِينَ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَمْعَنُوا صفات ذاتیہ کو بھول گئے اور اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں أَنْظَارَهُمْ فِي صِفَاتِ الله تعالى وما تراش لیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے شایان يَلِيقُ يليق له من الكَمَالَاتِ لَمَا أَخطاً شان کمالات پر گہری نظر ڈالتے تو ان کی عقل خطا نہ کرتی اور توتُهُهُمْ وَمَا كَانُوْا مِنَ الْهَالِكِین وہ ہلاک ہونے والوں میں سے نہ ہو جاتے۔پس یہاں اللہ فَأَشَارَ اللهُ تَعَالَى فَهُمَا أَنَّ الْقَانُون تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ جل شانہ کی الْعَاصِمَ مِنَ الخطأ في مَعْرِفَةِ الْبَارِي عَزَّ معرفت کے بارہ میں غلطی سے بچانے والا قانون یہ ہے کہ اسْمُهُ إِمْعَانُ النَّظَرِ فِي كَمَالَاتِهِ وَتَتَبعُ اس کے کمالات میں پورا غور کیا جائے اور اس کی ذات کے فِي