تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 86
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۶ سورة الفاتحة صِفَاتٍ كَامِلَةٍ وَ كَمَالَاتٍ شَامِلَةٍ وَمَا بارش کا پتہ میری برکات کے بادلوں سے ہوتا ہے۔پس جن وَجَدُوا مِنْ كَمَالٍ وَمَا رَأَوْا مِنْ جَلالٍ لوگوں نے مجھے تمام صفات کا ملہ اور تمام کمالات کا جامع یقین إلى جَوَلَانِ خَيَالٍ إِلَّا وَنَسَبُوهَا إِلَى کیا اور انہوں نے جہاں جو کمال بھی دیکھا اور اپنے خیال کی وَعَزَوْا إِلَى كُلَّ عَظْمَةٍ ظَهَرَتْ في انتہائی پرواز تک انہیں جو جلال بھی نظر آیا انہوں نے اُسے عُقُولِهِمْ وَ أَنْظَارِهِمْ وَكُلّ قُدرَةٍ میری طرف ہی نسبت دی۔اور ہر عظمت جو ان کی عقلوں اور تَرَاءَتْ أَمَامَ أَفَكَارِهِمْ فَهُمْ قَوْمٌ نظروں میں نمایاں ہوئی اور ہر قدرت جوان کے افکار کے يَمْشُونَ عَلَى طُرُقِ مَعْرِفَتِی وَ الْحَقُّ آئینہ میں انہیں دکھائی دی انہوں نے اسے میری طرف ہی مَعَهُمْ وَ أُولئِكَ مِنَ الْفَائِزِینَ منسوب کیا۔پس یہ ایسے لوگ ہیں جو میری معرفت کی راہوں فَقُومُوا عَافَاكُمُ اللهُ وَاسْتَقْرُوا پر گامزن ہیں۔حق ان کے ساتھ ہے اور وہ کامیاب ہونے مَحَامِدَةُ عَزّ اسْمُهُ وَ انْظُرُوا وَأَمْعِنُوا والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت سے رکھے۔اُٹھو! فِيْهَا كَالأَلْيَاسِ وَ الْمُتَفَكِّرين خدائے ذوالجلال کی صفات کی تلاش میں لگ جاؤ اور وَاسْتَنْفِضُوا وَاسْتَشِقُوا أَنْطَارَكُمْ دانشمندوں اور غور و فکر کرنے والوں کی طرح ان میں سوچ و بچار إلى كُلّ جِهَةِ كَمَالٍ وَتَحَسَّسُوا مِنْهُ فِی اور امعان نظر سے کام لو۔اچھی طرح دیکھ بھال کرو اور کمال قَيْضِ الْعَالَمِ وَ هُيْهِ كَمَا يَتَحَسَّسُ کے ہر پہلو پر گہری نظر ڈالو۔اور اس عالم کے ظاہر میں اور اس ر الْحَرِيصُ أَمَانِيَّهُ بِشُتِهِ فَإِذَا وَجَدتُّمْ کے باطن میں اسے اس طرح تلاش کرو جیسے ایک حریص كَمَالَهُ التَّامَ وَ رَيَّاهُ فَإِذَا هُوَ إِيَّاهُ وَ انسان بڑی رغبت سے اپنی خواہشات کی تلاش میں لگا رہتا هذَا سِرُّ لَّا يَبْدُو إِلَّا عَلَى ہے۔پس جب تم اس کے کمال تام کو پہنچ جاؤ اور اس کی خوشبو الْمُسْتَرْشِدِينَ۔فَذَالِكُمْ رَبُّكُمْ وَ پالو تو گویا تم نے اس کو پالیا اور یہ ایسا راز ہے جو صرف ہدایت مَوْلَاكُمُ الْعَامِلُ الْمُسْتَجْمعُ لِجَمیع کے طالبوں پر ہی کھلتا ہے۔پس یہ تمہارا رب اور تمہارا آقا الصَّفَاتِ الكَامِلَةِ وَالْمَحَامِدِ التَّامَةِ ہے جو خود کامل ہے اور تمام صفات کا ملہ اور محامد کا جامع ہے۔الشّامِلَةِ وَلَا يَعْرِفُهُ إِلَّا مَنْ تَدَبَّرَ في اس کو وہی شخص پہچان سکتا ہے جو سورۃ فاتحہ میں تدبر کرے اور الْفَاتِحَةِ وَاسْتَعَانَ بِقَلْبِ حَزِيْنِ وَإِنَّ درد مند دل کے ساتھ خدا تعالیٰ سے مدد مانگے۔وہ لوگ جو الَّذِينَ يُخْلِصُونَ مَعَ اللهِ نِيَّةَ الْعَقْدِ اللہ تعالیٰ سے عہد باندھتے وقت اپنی نیت کو خالص کر لیتے