تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 85
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۵ سورة الفاتحة وَيَرْحَضُونَ عَنْكُمْ قَشْفَ الشَّدَائِدِ مصائب کی میل کچیل تمہارے وجود سے دھوتے ہیں اور وَيُدَاوُونَ دَائِكُمْ أَمْ هُمْ مَالِكَ يَوْمِ تمہاری بیماری کا علاج کرتے ہیں۔ کیا وہ جزا سزا کے دن الدِّينِ بَلِ اللهُ يُرَبِّي وَيَرْحَمُ بِتَكْمِيلِ کے مالک ہیں؟ نہیں بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو خوشیوں الرِّفَاءِ وَعَطَاءِ أَسْبَابِ الْاهْتِدَاءِ وَ کی تکمیل کرنے، ہدایت کے اسباب مہیا کرنے ، دُعائیں اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ وَالتَّنْجِيَةِ مِن قبول کرنے اور دشمنوں سے نجات دینے کے ذریعہ تم پر رحم الْأَعْدَاءِ وَسَيُعْطِي أَجْرَ الْعَامِلِينَ فرماتا اور تمہاری پرورش کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کو الصَّالِحِينَ۔ ضرور اجر عطا کرے گا۔ وَفِي لَفْظِ الْحَمْدِ إِشَارَةُ أُخْرَى وَهِيَ اور لفظ حمد میں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ أَيُّهَا تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے (میرے) بندو! میری الْعِبَادُ اعْرِفُونِي بِصِفَاتِي وَتَعَرَّفُونِي صفات سے مجھے شناخت کرو اور میرے کمالات سے مجھے بِكَمَا لَا لِي فَإِنِّي لَسْتُ كَالنَّاقِصِينَ بَلْ پہچانوں میں ناقص ہستیوں کی مانند نہیں بلکہ میری حمد کا مقام يَزِيدُ حَمْدِى عَلَى إِطْرَاءِ الْحَامِدِينَ وَلَنْ انتہائی مبالغہ سے حمد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اور تم تجِدَ مَحَامِد لَا فِي السَّمَوَاتِ وَلَا فِي آسمانوں اور زمینوں میں کوئی قابلِ تعریف صفات نہیں پاؤ الْأَرْضِينَ إِلَّا وَتَجِدُهَا فِي وَجْهِي وَان گے جو تمہیں میری ذات میں نہ مل سکیں۔ اور اگر تم میری أَرَدْتَ إِحْصَاءَ فَحَامِدِي فَلَنْ تُحْصِيَهَا وَ قابل حمد صفات کو شمار کرنا چاہو تو تم ہرگز انہیں نہیں گن سکو إِن فَكَرْتَ بِشِقِّ نَفْسِكَ وَ كَلَّفْتَ فِيهَا گے ۔ اگر چہ تم کتنا ہی جان توڑ کر سوچو اور اپنے کام میں كَالْمُسْتَغْرِقِينَ فَانْظُرُ هَلْ تَرَى مِنْ مستغرق ہونے والوں کی طرح ان صفات کے بارہ میں کتنی ہی حَمَّدٍ لَّا يُوجَدُ فِي ذَاتِي وَهَلْ تَجِدُ مِنْ تکلیف اٹھاؤ۔ خوب سوچو! کیا تمہیں کوئی ایسی حمد نظر آتی ہے كَمَالٍ بُعِدَ مِنِّي وَمِنْ حَضْرَتِي فَإِنْ جو میری ذات میں نہ پائی جاتی ہو؟ کیا تمہیں ایسے کمال کا زَعَمْتَ كَذَالِكَ فَمَا عَرَفْتَنِي وَأَنْتَ مِنْ سراغ ملتا ہے جو مجھ سے اور میری بارگاہ سے بعید ہو؟ اور اگر تم قَوْمٍ عَمِينَ بَلْ إِنَّنِي أُعْرَفُ بِمَحَامِدِی ایسا گمان کرتے ہو تو تم نے مجھے پہچانا ہی نہیں اور تم اندھوں وَ كَمَالَاتِي وَيُرَى وَابِلِي بِسُحُبِ بَرَكَاتِی میں سے ہو۔ بلکہ یقیناً میں (اللہ تعالیٰ ) اپنی ستودہ صفات فَالَّذِينَ حَسِبُونِي مُسْتَجْمِعَ جَمِيع اور اپنے کمالات سے پہچانا جاتا ہوں اور میری موسلا دھار シ