تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 85

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۵ سورة الفاتحة وَيَرْحَضُونَ عَنْكُمْ قَشْفَ الشَّدَائِدِ مصائب کی میل کچیل تمہارے وجود سے دھوتے ہیں اور وَيُدَاوُونَ دَانَكُمْ أَمْ هُمْ مَالِكُ يَوْمِ تمہاری بیماری کا علاج کرتے ہیں۔کیا وہ جزا سزا کے دن الدِّينِ۔بَلِ اللهُ يُرَبِّي وَيَزعَمُ بِتَكْمِيْلِ کے مالک ہیں؟ نہیں بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو خوشیوں الرَّفَاءِ وَعَطاءِ أَسْبَابِ الْاهْتِدَاءِ وَ کی تعمیل کرنے ، ہدایت کے اسباب مہیا کرنے ، دُعائیں اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ وَالتَّنْجِيَّةِ مِن قبول کرنے اور دشمنوں سے نجات دینے کے ذریعہ تم پر رحم الْأَعْدَاءِ وَسَيُعْطِي أَجْرَ الْعَامِلِينَ فرماتا اور تمہاری پرورش کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو ضرور اجر عطا کرے گا۔الصَّالِحِينَ وَهِيَ وَفي لفظ الْحَمْدِ إِشَارَةُ أُخرى وهي اور لفظ حمد میں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ أَنَّ الله تَبَارَكَ وَتَعَالى يَقُولُ أَيُّهَا تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے (میرے) بندو! میری الْعِبَادُ اعْرِفُونِي بِصِفَاتِي وَتَعَرَّفُونى صفات سے مجھے شناخت کرو اور میرے کمالات سے مجھے بِكَمَالاتي فَإِنِّي لَسْتُ كَالنَّاقِصِينَ بَلْ پہچانو۔میں ناقص ہستیوں کی مانند نہیں بلکہ میری حمد کا مقام يَزِيدُ حَمدِى عَلى إظرَاءِ الْحَامِدِينَ۔وَلَن انتہائی مبالغہ سے حمد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اور تم تجد محامد لا في السَّمَوَاتِ وَلا في آسمانوں اور زمینوں میں کوئی قابل تعریف صفات نہیں پاؤ الْأَرْضِينَ إِلَّا وَتَجِدُهَا في وَجْهِيَ وَاِن کے جو تمہیں میری ذات میں نہ مل سکیں۔اور اگر تم میری ارَدُتْ إِحْصَاءَ مَحَامِدِي فَلَن تُخصيها و قابل حمد صفات کو شمار کرنا چاہو تو تم ہرگز انہیں نہیں گن سکو اِن فَكَّرْتَ بِهِق نفسك و كلفت فيها گے۔اگر چہ تم کتنا ہی جان توڑ کر سوچو اور اپنے کام میں نَفْسِكَ وَ كَلَّفْتَ فِيْهَا كَالْمُسْتَغْرِقِينَ۔فَانْظُرْ هَلْ تَرى مِن مستغرق ہونے والوں کی طرح ان صفات کے بارہ میں کتنی ہی حَمَّدٍ لَّا يُوجَدُ فِي ذَاتِي وَ هَلْ تَجِدُ مِن تکلیف اٹھاؤ۔خوب سوچو! کیا تمہیں کوئی ایسی حمد نظر آتی ہے كَمَالٍ بُعْدَ مِنِى وَمِنْ حَضْرَتي فَإِن جو میری ذات میں نہ پائی جاتی ہو؟ کیا تمہیں ایسے کمال کا زَعَمْتَ كَذَالِكَ فَمَا عَرَفْتَنِي وَأَنتَ من سراغ ملتا ہے جو مجھ سے اور میری بارگاہ سے بعید ہو؟ اور اگر تم قَوْمٍ عَمِينَ بَلْ إِنَّنِي أُعْرَفُ بمَتحَامِدنی ایسا گمان کرتے ہو تو تم نے مجھے پہچانا ہی نہیں اور تم اندھوں وَ كَمَالَاتِي وَيُرَى وَابِلِى بِسُحُب برکاتی میں سے ہو۔بلکہ یقیناً میں (اللہ تعالیٰ ) اپنی ستودہ صفات فَالَّذِينَ حَسِبُوني مُسْتَجْمِعَ جَمیع اور اپنے کمالات سے پہچانا جاتا ہوں اور میری موسلا دھار وس