تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 83

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۳ سورة الفاتحة بَعْدَ الْحَمْدِ صِفَانًا تَسْتَلْزِمُ هَذَا الْمَعْنَى نزدیک ان معنی کو مستلزم ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے لفظ حمد میں عِنْدَ أَهْلِ الْعِرْفَانِ وَ اللهُ سُبْحَانَهُ أَوْمَاً ان صفات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو اس کے ازلی نور فِي لَفْظِ الْحَمْدِ إِلَى صِفَاتٍ تُوجَدُ فِي نُوْرِہ میں پائی جاتی ہیں۔ الْقَدِيمِ ثُمَّ فَشَرَ الْحَمْدَ وَجَعَلَهُ مُخَدَّرَةً پھر اس نے اس لفظ حمد کی تفسیر فرمائی ہے اور اسے ایک سَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا عِنْدَ ذِكْرِ الرَّحْمَانِ ایسی پرده نشین قرار دیا ہے جو رحمان اور رحیم کے ذکر پر اپنے وَالرَّحِيمِ فَإِنَّ الرَّحْمَانَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ چہرہ سے نقاب اٹھاتی ہے کیونکہ رحمن کا لفظ اس امر پر الْحَمْدَ مَبْنِي عَلَى الْمَعْلُومِ وَالرَّحِيم دلالت کرتا ہے کہ لفظ حمد مصدر معروف ہے اور اسی طرح يَدُلُّ عَلَى الْمَجْهُولِ كَمَا لَا يَخْفَى عَلی رحیم کا لفظ حمد کے مصدر مجہول ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ أَهْلِ الْعُلُومِ۔ جیسا کہ اہل علم پر مخفی نہیں۔ ( ترجمه از مرتب ) (اعجاز المسيح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۲۹ تا ۱۳۱ ) الْحَمْدُ لِلَّهِ هُوَ الثَّنَاءُ بِالحِسَانِ عَلَى حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی صاحب اقتدار شریف الْجَمِيلِ لِلْمُقْتَدِرِ النَّبِيْلِ عَلَى قَصْدِ ہستی کے اچھے کاموں پر اس کی تعظیم و تکریم کے ارادہ سے التَّبْجِيلِ وَالْكَامِلُ النَّاةُ مِنْ أَفْرَادِہ زبان سے کی جائے اور کامل ترین حمد رب جلیل سے مخصوص مختص بِالرَّبِ الْجَلِيلِ وَ كُلُّ حَمدٍ مِن ہے اور ہر قسم کی حد کا مرجع خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہمارا وہ الْكَثِيرِ وَالْقَلِيلِ يَرْجِعُ إِلَى رَبَّنَا الَّذِي ربّ ہے جو گمراہوں کو ہدایت دینے والا اور ذلیل لوگوں کو هُوَ هَادِي الضَّالِ وَ مُعِزُ النَّلِيْلِ وَهُوَ عزت بخشنے والا ہے۔ اور وہ محمودوں کا محمود ہے (یعنی وہ مَحْمُودُ الْمَحْمُودِينَ وَ الشُّكْرِ يُفَارِقُ ہستیاں جو خود قابلِ حمد ہیں وہ سب اس کی حمد میں لگی ہوئی الْحَمْدَ بِخَصُوصِيَّتِهِ بِالصَّفَاتِ الْمُتَعَدِّيَةِ ہیں ) ۔ اکثر علماء کے نزد یک لفظ شکر حمد سے اس پہلو میں عندا أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ وَالْمَدْحُ يُفَارِقُهُ فِي فرق رکھتا ہے کہ وہ ایسی صفات سے مختص ہے کہ جو دوسروں کو جَمِيلٍ غَيْرِ اخْتِيَارِي كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى فائدہ پہنچانے والی ہوں اور لفظ مدح لفظ حمد سے اس بات الْبُلَغَاءِ وَالْأَدْبَاءِ الْمَاهِرِينَ میں مختلف ہے کہ مدح کا اطلاق غیر اختیاری خوبیوں پر بھی سے مخفی ہوتا ہے۔ اور یہ امر صیح و بلیغ علماء اور ماہر ادباء سے حقی ہیں۔ فصیح