تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 77
عَتَوْ عُتُوًّا كَبِيْرًا۰۰۲۲يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔(کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ )جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اُس دن مجرموں کو يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَ يَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۰۰۲۳ کوئی خوشخبری نہیں ملے گی اور( وہ گھبراکر) کہیں گے (ہم سے) پرے ہی رہو۔اور ہم نے اُن کے ہر قسم کے عمل کی وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً طرف توجہ کی جو انہوں نے کیا تھا اور اُس کو ہو ا میں بکھیر کر اُڑائے ہوئے ذرات کی طرح کر دیا جنتی لوگ اُس دن مَّنْثُوْرًا۰۰۲۴اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِيْلًا۰۰۲۵ ٹھکانہ کے لحاظ سے بھی اچھے ہوںگے اور خواب گاہوں کے لحاظ سے بھی وہ اعلیٰ مقام پر ہوںگے۔حلّ لُغَات۔حِـجْرًا مَّـحْجُوْرًا۔حِـجْرًا مَـحْجُوْرًاحَجَرَہٗ کے معنے ہیں مَنَعَہٗ۔اُس کو روک دیا ( اقرب) مفردات میں ہے کہ وَ یَقُوْلُوْنَ حِـجْرًا مَـحْجُوْرًا کَانَ الرَّجُلُ اِذَا لَقِیَ مَنْ یُّخَافُ یَقُوْلُ ذٰلِکَ یعنی حِـجْرًا مَّـحْجُوْرًا کا فقرہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی آدمی کسی سے ڈرتا ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ وہ اُسے نقصان پہنچائے گا۔تو اس وقت وہ یہ فقرہ کہا کرتا تھا۔جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کاش اُس کے اور اُس کو نقصان پہنچانے والے کے درمیان کوئی روک حائل ہو جائے۔اسی طرح کفار بھی جب عذاب کے فرشتوں کو دیکھیں گے۔تو وہ یہ فقرہ کہیں گے۔اس خیال سے کہ شاید کوئی روک پیدا ہو جائے اور وہ عذاب سے بچ جائیں ( مفردات ) ھَبَاءٌ أَ لْھَبَاءُ اَلْغُبَارُ۔غبار۔اَوْیُشْبِہُ الدُّخَانَ وَھُوَ مَایَنْبَثُّ فِیْ ضَوْءِ لشَّمْسِ یا وہ چیز جو دھوئیں کی طرح سورج کی شعائوں میں اُڑتی نظر آتی ہے۔اسی طرح ھَبَاءٌ کے معنے ہیں دُقَاقُ التُّرَابِ سَاطِعَۃً وَمَنْثُوْرَۃً عَلیٰ وَجْہِ الْاَرْضِ۔وہ باریک مٹی جو زمین پر فضا میں بکھری ہوئی اُڑ رہی ہوتی ہے۔( اقرب) مَقِیْلًا۔مَقِیْلًا قَالَ ( یَقِیْلُ) کا مصدر ہے اور قَالَ کے معنے ہیں نَامَ فِی الْقَائِلَۃِ اَیْ نِصْفَ النَّھَارِ۔دوپہر کے وقت سویا اور اُس نے آرام کیا۔اسی طرح قَالَ کے معنے ہیں شَرِبَ فِیْ نِصْفِ النَّھَارِ دوپہر کے وقت تسکین نفس کے لئے کچھ پینے کی چیز استعمال کی ( اقرب) یَقِیْلُ قَالَ سے ظرفِ مکان بھی ہو سکتا ہے۔اس صورت