تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 76

؎ ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است زیرِ آں گنج کرم بنہادہ است (مثنوی مولانا روم دفتر ششم ) یعنی ہر ابتلاء جو اللہ تعالیٰ کے قائم کر دہ سلسلوں پر آتا ہے اُس کے نیچے رحمتِ الٰہی کا ایک بہت بڑا خزانہ مخفی ہوتا ہے جو اُس کی ترقی کا باعث ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو مکہ کے بڑےبڑے رئو سا ء نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسی کیسی اذیتّیں پہنچائیں مگر یہی اذّیتیں تھیں جنہوں نے سعید الفطرت لوگوں کی طبائع میں ہلچل مچا دی۔اور وہ خون کے دریائوں میں گذرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ تک آپہنچے اور انہوں نے آپؐ کے آستانہ پر اپنے سرجھکا دئیے۔اگر ابتلاء نہ آتے تو شاید اسلام کی آواز مکّہ کی چاردیواری سے بھی باہر نہ نکلتی۔مگر ان ابتلائوں کی وجہ سے اُس کی آواز عرب کے کونہ کونہ میں گونجنے لگی اور پھر عرب سے نکل کر دنیا کے کناروں تک جا پہنچی پس ابتلا ء قومی ترقی کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔آج تک کوئی نبی بھی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس کی جماعت کو ابتلائوں اور آزمائشوں کے دَور میں سے نہ گذرنا پڑا ہو بلکہ قرآن کریم ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ ( البقرۃ :۲۱۵) یعنی ان لوگوں کو اس قدر تکالیف پہنچیں کہ وہ سر سے پیر تک ہلادیئے گئے۔یہاں تک کہ وقت کا رسول اور مومن بندے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے حضور گِر گئے اور انہوں نے دُعائیں کرنی شروع کر دیں کہ الٰہی تیری مدد کب نازل ہوگی۔آخر خدا نے اُن کی پکار سُنی اور آسمان سے اُس کی مدد آگئی جس نے اُن کو غالب کر دیا۔پس ابتلائوں سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ انہیں جماعتی ترقی کا ایک اہم ذریعہ سمجھنا چاہیے اور دُعائوں سے اور گر یہ و زاری سے اور نیک اور پاک اعمال سے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت کو جذب کرنا چاہیے۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا اور انہوں نے جو ہماری ملاقات کی امید نہیں کرتے کہہ دیا کہ کیوں ہم پر فرشتے نہیں اتارے گئے ؟یا ہم الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ؟ انہوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا ہے اور سرکشی